سرینگر، انتظامیہ نے ایران پر اسرائیلی اور امریکی حملوں کےخلاف مظاہرے روکنے کےلئے پابندیاں مزید سخت کر دیں

سرینگر۔6مارچ (اے پی پی):بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں وکشمیر میں نئی دہلی کے مسلط کر دہ لیفٹیننٹ گورنر کے ماتحت انتظامیہ نے جمعہ کو کرفیوجیسی پابندیوں کا سلسلہ مزیدتیز کر دیا ہے ۔ کشمیر میڈیاسروس کے مطابق ایران پر اسرائیلی اور امریکی حملوں کے خلاف مظاہرو ں کو روکنے کے لئے مقبوضہ علاقے میں 5روز سے پابندیاں نافذ ہیں۔ کل جماعتی حریت کانفرنس نے ایران کے رہبر اعلیٰ …

سرینگر۔6مارچ (اے پی پی):بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں وکشمیر میں نئی دہلی کے مسلط کر دہ لیفٹیننٹ گورنر کے ماتحت انتظامیہ نے جمعہ کو کرفیوجیسی پابندیوں کا سلسلہ مزیدتیز کر دیا ہے ۔ کشمیر میڈیاسروس کے مطابق ایران پر اسرائیلی اور امریکی حملوں کے خلاف مظاہرو ں کو روکنے کے لئے مقبوضہ علاقے میں 5روز سے پابندیاں نافذ ہیں۔

کل جماعتی حریت کانفرنس نے ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای کے قتل اور اسرائیلی ، امریکی جارحیت اور مودی حکومت کی طرف سے مقبوضہ علاقے میں پابندیوں کے خلاف نماز جمعہ کے بعد پرامن مظاہروں کی کال دے رکھی ہے۔ انتظامیہ نے مظاہرے روکنے کےلئے سری نگر، بارہمولہ، بانڈی پورہ، بڈگام، پلوامہ اور وادی کشمیر کے دیگر اضلاع میں بھارتی فوج اور پیرا ملٹری سینٹرل ریزرو پولیس فورس کے اہلکاروں کی بھاری نفری تعینات کردی ہے۔ اہم سڑکیں اورچوراہے خار دارتاروں سے سیل کر د یئے گئے ہیں۔ بھارتی فورسز اہلکاروں نے سری نگر کے تجارتی مرکز لال چوک کو پوری طرح سے گھیرے میں لےکر اسے نو گو زون میں تبدیل کر دیا ہے۔

یہ پابندیاں پیر کو اس وقت عائد کی گئی تھیں جب ایران پر اسرائیلی اور امریکی حملے اور خامنہ ای کے قتل کے خلاف پورے مقبوضہ علاقے میں لوگ مظاہروں کے لئے سڑکوں پر آگئے تھے۔ ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق بھارتی پولیس نے مظاہروں میں حصہ لینے کی پاداش میں اب تک800سے زائد کشمیری نوجوان گرفتار کر لیے ہیں جن میں درجنوں لڑکیاں بھی شامل ہیں۔انتظامیہ نے کل ہفتے تک مقبوضہ علاقے میں تعلیمی ادارے بھی بند رکھنے کا حکمنامہ جاری کیا ہے جبکہ موبائل انٹرنیٹ سروس بھی معطل کر دی گئی ہے۔

حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈووکیٹ عبدالرشید منہاس نے سرینگر میں ایک بیان میں کشمیریوں پر زور دیا کہ وہ ایران پر اسرائیلی او ر امریکی جارحیت ، مودی اور نیتن یاہو کے مسلم دشمن ایجنڈے او رمقبوضہ علاقے میں نافذ پابندیوں کے خلاف نماز جمعہ کے بعد بھر پور احتجاج کریں۔

مزید خبریں