ریاض۔12فروری (اے پی پی):سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی زیرسرپرستی2 روزہ ’’ہیومن کیپبلٹی انیشی ایٹو‘‘ کانفرنس کا تیسرا ایڈیشن3 مئی سے شروع ہو گا۔ اردو نیوز کے مطابق ’’ہیوم کوڈ‘‘ کے عنوان سے یہ کانفرنس 3 اور 4 مئی کو ریاض کے کنگ عبدالعزیز انٹرنیشنل کانفرنس سینٹر میں ہو گی۔کانفرنس میں انسانی صلاحیتوں کے فروغ کے لئے تین مرکزی نکات پرتوجہ مرکوز کی جائے گی جن میں سوچ، …
سعودی عرب،ریاض میں2 روزہ ہیومن کیپبلٹی انیشی ایٹو کانفرنس کا تیسرا ایڈیشن3 مئی سے شروع ہو گا

مزید خبریں
ریاض۔12فروری (اے پی پی):سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی زیرسرپرستی2 روزہ ’’ہیومن کیپبلٹی انیشی ایٹو‘‘ کانفرنس کا تیسرا ایڈیشن3 مئی سے شروع ہو گا۔ اردو نیوز کے مطابق ’’ہیوم کوڈ‘‘ کے عنوان سے یہ کانفرنس 3 اور 4 مئی کو ریاض کے کنگ عبدالعزیز انٹرنیشنل کانفرنس سینٹر میں ہو گی۔کانفرنس میں انسانی صلاحیتوں کے فروغ کے لئے تین مرکزی نکات پرتوجہ مرکوز کی جائے گی جن میں سوچ، ایجادات اور رابطہ شامل ہیں۔ کانفرنس میں انسانی صلاحیتوں کی ترقی کے شعبے کے 15 ہزارسے زائد ماہرین شرکت کریں گے جبکہ 250 سے زائد مقامی اور عالمی ماہرین و تھنک ٹینکس اور پالیسی ساز شخصیات مقررین کے طور پر شرکت کریں گی۔
گزشتہ روزسعودی وزیر تعلیم اور ہیومن کیپبلٹی ڈیویلپمنٹ پروگرام کی ایگزیکٹو کمیٹی کے چیئرمین یوسف البنیان نے کہا کہ انسانی استعداد کی ترقی مملکت کی قیادت کی ترجیحات میں شامل ہے جو دنیا میں تیز رفتار تبدیلی سے ہم آہنگ ہونے کے لیے انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہیومین کیپبلٹی انیشی ایٹو (ایچ سی آئی) کانفرنس کے گزشتہ دو ایڈیشنز کی کامیابی کے بعد تیسرا ایڈیشن منعقد کیا جا رہا ہے جو مملکت کے وژن 2030 کے اہداف میں شامل ہے۔
وزیر تجارت اور ہیومن کیپیبلٹی ڈویلپمنٹ پروگرام کمیٹی کے رکن سعودی، برطانوی سٹریٹیجک پارٹنرشپ کونسل کی اقتصادی و سماجی کمیٹی کے چیئرمین ڈاکٹر ماجد القصیبی نے کہا کہ برطانیہ ’’کنٹری آف آنر‘‘ کے طور پر کانفرنس کی میزبانی کر رہا ہے جو سٹریٹجک تعاون کا تسلسل ہے ۔ اس کی ابتدا گزشتہ ایڈیشن میں ہوئی تھی جس کا مقصد مملکت اور برطانیہ کےدرمیان اقتصادی ترقی، تعلیم اور تربیت کے شعبوں میں شراکت داری کو مضبوط بنانا ہے۔ واضح رہے کہ کانفرنس کے گزشتہ ایڈیشنز میں وزیٹرز کی تعداد 23000 سے زائد تھی جبکہ 550 سے زیادہ مقامی اور عالمی ماہرین نے شرکت کی جبکہ 156 مقامی اور عالمی اداروں سے معاہدے کیے گئے۔








