سعودی عرب کے وزیر کمیونیکیشن و انفارمیشن ٹیکنالوجی انجینئرعبداللہ عامر السواحہ نے کہا ہے کہ شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی زیر قیادت مملکت، دنیا کے سب سے زیادہ قابل رسائی مصنوعی ذہانت سے لیس ڈیجیٹل انفرا سٹرکچر میں سے ایک بنا رہا ہے
سعودی عرب، مشرق اور مغرب کے درمیان اے آئی ایکو سسٹمز کو جوڑتا ہے، وزیر کمیونیکیشن و انفارمیشن ٹیکنالوجی

مزید خبریں
ہانگ کانگ۔9جولائی (اے پی پی):سعودی عرب کے وزیر کمیونیکیشن و انفارمیشن ٹیکنالوجی انجینئرعبداللہ عامر السواحہ نے کہا ہے کہ شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی زیر قیادت مملکت، دنیا کے سب سے زیادہ قابل رسائی مصنوعی ذہانت سے لیس ڈیجیٹل انفرا سٹرکچر میں سے ایک بنا رہا ہے، جو ڈیجیٹل معیشت میں ایک قابلِ اعتماد شراکت دار اور مشرق و مغرب کے درمیان پل کے طور پر اپنی حیثیت کو مستحکم کرتا ہے۔ اردو نیوز کے مطابق یہ بات انہوں نے گزشتہ روز ہانگ کانگ میں سعودی عرب کی فلیگ شپ ٹیکنالوجی کانفرنس’’لیپ ایسٹ 2026 ‘‘ کےپہلے بین الاقوامی ایڈیشن کا آغاز کے موقع پر کہی۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب ایشیا بھر میں ٹیکنالوجی شراکت داری کو مضبوط بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 5 سال قبل ریاض سے شروع ہونے والا ’’لیپ‘‘ کا سفر اب ایک عالمی ٹیکنالوجی پلیٹ فارم بن چکا ہے، جس کے اثرات نہ صرف سعودی عرب بلکہ پوری دنیا میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس تحریک کا مشرق کی جانب منتقل ہونا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یہ خطہ مستقبل کی ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کی صنعت کا ایک اہم عالمی مرکز بن چکا ہے۔ سعودی وزیر نے کہا کہ مشرقی خطے کی مجموعی معیشت کا حجم 34 ٹریلین ڈالر ہے، جو عالمی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کا تقریبا 30 فیصد بنتا ہے جبکہ ڈیجیٹل معیشت 10 ٹریلین ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔ دنیا کی تقریبا 46 فیصد آبادی اس خطے سے تعلق رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشرق صرف معاشی اعتبار سے ہی بڑا نہیں بلکہ مصنوعی ذہانت کے دور کی حقیقی بنیادیں بھی استوار کر رہا ہے۔ دنیا میں مصنوعی ذہانت سے متعلق 82 فیصد پیٹنٹس مشرقی ممالک سے رجسٹر ہوتے ہیں جبکہ عالمی سیمی کنڈکٹر مارکیٹ کا 60 فیصد اور جدید چپس کی 90 فیصد تیاری (مینوفیکچرنگ) بھی اسی خطے میں ہوتی ہے، جس کے باعث یہ عالمی سطح پر کمپیوٹنگ اور مصنوعی ذہانت کا مرکز بن چکا ہے۔
انہوں نے سعودی عرب کی کامیابیوں کا ذکرکرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ 8 سال میں مملکت کی ڈیجیٹل معیشت میں 75 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اس کا حجم 139 ارب ڈالر تک پہنچ چکا۔ اسی عرصے میں مجموعی جی ڈی پی میں نان آئل سیکٹر کا حصہ بڑھ کر 16 فیصد ہوگیا۔ ڈیٹا سینٹرز کی آپریشنل صلاحیت 467 میگا واٹ تک پہنچ چکی ہے، جو مشرق وسطی اور شمالی افریقہ کے مجموعی ڈیٹا سینٹر انفراسٹرکچر کا 47 فیصد ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی خواتین کو بااختیار بنانا عالمی سطح پر مملکت کی نمایاں کامیابیوں میں شامل ہے۔ ٹیکنالوجی کے شعبے میں خواتین کی افرادی قوت میں شمولیت 7 فیصد سے بڑھ کر 35 فیصد تک پہنچ گئی، جو یورپی یونین اور سلیکون ویلی کی اوسط سے بھی زیادہ ہے۔ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں شرکت اور با اختیار بنانے کے حوالے سے سعودی خواتین عالمی سطح پر نمایاں مقام رکھتی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ سعودی عرب 2034 تک ڈیٹا سینٹرز کی مجموعی صلاحیت 6.9 گیگا واٹ تک بڑھانے کا منصوبہ رکھتا ہے، جس میں 2030 تک 3 گیگا واٹ کا ہداف حاصل کیا جائے گا۔ اس وقت مملکت کے پاس 12.8 گیگا واٹ بجلی موجود ہے، جس کی بدولت سعودی عرب مصنوعی ذہانت اور ہائی پرفارمنس کمپیوٹنگ منصوبوں کے لیے توانائی کی فراہمی میں دنیا کے تیز ترین ممالک میں شامل ہے۔ سعودی وزیر نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کے دور میں کامیابی کے لیے تین بنیادی عناصر کمپیوٹنگ، صارفین اور سرمایہ کاری اہم ہیں جو سعودی عرب میں یکجا ہو چکے ہیں۔ مشرق کی متعدد عالمی کمپنیوں نے مملکت میں سرمایہ کاری اور اپنے منصوبوں کا آغاز کردیا ہے جن میں لینیو اور دیگر شامل ہیں۔








