سعودی عرب میں نئےہجری سال کے آغاز پر غلافِ کعبہ تبدیل کر دیا گیا ہے۔ غلافِ کعبہ کی تبدیلی کے لیے تیاریاں پیر کی شام سے شروع ہوئیں اور منگل کی صبح کسوہ کی تبدیلی کا عمل مکمل کیا گیا۔ اردو نیوز کے مطابق کسوہ فیکٹری سے غلافِ کعبہ کانوائے کی صورت میں منتقل کیا گیا۔
سعودی عرب، نئے ہجری سال کے آغاز پر غلافِ کعبہ تبدیل
ریاض۔16جون (اے پی پی):سعودی عرب میں نئےہجری سال کے آغاز پر غلافِ کعبہ تبدیل کر دیا گیا ہے۔ غلافِ کعبہ کی تبدیلی کے لیے تیاریاں پیر کی شام سے شروع ہوئیں اور منگل کی صبح کسوہ کی تبدیلی کا عمل مکمل کیا گیا۔ اردو نیوز کے مطابق کسوہ فیکٹری سے غلافِ کعبہ کانوائے کی صورت میں منتقل کیا گیا۔
دنیا بھر کے مسلمان نئے ہجری سال کے آغاز کے ساتھ ہی اس روح پرور منظر کے منتظر ہوتے ہیں جو سال میں صرف ایک بار ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔ سعودی ماہرین اپنی مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے مقدس اور اہم ذمہ داری انجام دیتے ہیں جو خانہ کعبہ کے تقدس اور اس مقام کی عظمت کی متقاضی ہے۔ کسوۃ کی تبدیلی کے عمل کا آغاز پرانے غلاف کو اتارنے سے کیا جاتا ہے۔ سب سے پہلے سونے کے تاروں سے کڑھائی کیے گئے آیات قرآنی کے طغرے انتہائی مہارت اور احتیاط سے اتارے جاتے ہیں۔ اس کے بعد خانہ کعبہ کے دروازے کا پردہ جس کی لمبائی 6.35 میٹر اور چوڑائی 3.33 میٹر ہے، کو اتارا جاتا ہے۔
غلاف کی تبدیلی کا عمل ایک مربوط نظام اور فنی باریکیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے شروع کیا جاتا ہے جس میں غلاف کے مختلف سمت کے حصوں کو کعبے کی چھت پر لے جانے اور نیچے لانے کا عمل ہوتا ہے۔ کنگ عبدالعزیز کمپلیکس کے مطابق کعبۃ اللہ کے غلاف یعنی کسوہ کی تیاری کے لیے لگ بھگ 825 کلوگرام خام ریشم، 120 کلوگرام چاندی کی تار جس پر سونے کا پانی چڑھا ہوتا ہے، 60 کلوگرام خالص چاندی اور 410 کلوگرام خام روئی استعمال ہوتی ہے۔
150 سعودی کاریگروں اور ہنرمندوں نے 11 ماہ کی محنت سے سیاہ ریشم کے 47 خوبصورت ٹکڑے تیار کیے جن پر قرآنِ پاک کی 30 آیات چاندی کے دھاگے سے کشیدہ کی گئیں اور اس دھاگے پر 24 قیراط سونے کی تہہ چڑھائی گئی تھی۔غلافِ کعبہ کا وزن 1410 کلوگرام ہے۔









