جاپان، شرح سود 31 سال کی بلند ترین سطح ایک فیصد کر دی گئی

جاپان کے مرکزی بینک (بینک آف جاپان)نے دو روزہ مانیٹری پالیسی اجلاس کے اختتام پر اپنی بنیادی شرحِ سود 0.75 فیصد سے بڑھا کر 1.0 فیصد کر دی ہے جو گزشتہ 31 برسوں کی بلند ترین سطح ہے۔

ٹوکیو۔16جون (اے پی پی):جاپان کے مرکزی بینک (بینک آف جاپان)نے دو روزہ مانیٹری پالیسی اجلاس کے اختتام پر اپنی بنیادی شرحِ سود 0.75 فیصد سے بڑھا کر 1.0 فیصد کر دی ہے جو گزشتہ 31 برسوں کی بلند ترین سطح ہے۔ شنہوا کے مطابق بینک آف جاپان کے گورنر کازوو اُوئیڈا جگر میں سسٹ کے انفیکشن کے علاج کے باعث ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں جس کی وجہ سے وہ اجلاس میں شرکت نہیں کر سکے۔

ان کی عدم موجودگی میں بورڈ کے دیگر اراکین نے قلیل مدتی شرحِ سود کو 1995 کے بعد پہلی بار اس سطح تک بڑھانے کا فیصلہ کیا۔یہ دسمبر 2025 کے بعد شرحِ سود میں پہلا اضافہ ہے۔ مرکزی بینک نے یہ اقدام مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث خام تیل کی بلند قیمتوں اور جاپانی ین کی کمزور قدر سے پیدا ہونے والے بڑھتے ہوئے افراطِ زر کے خدشات کے پیش نظر کیا ہے۔اس سے قبل بینک آف جاپان مسلسل تین مانیٹری پالیسی اجلاسوں میں شرحِ سود کو بغیر کسی تبدیلی کے برقرار رکھے ہوئے تھا۔