بیلجیئم میں پاکستان ہاکی ٹیم کے اعزاز میں استقبالیہ تقریب

بیلجیم میں پاکستان ہاکی ٹیم کے اعزاز میں پاکستان ایمبیسی کی جانب سے ایک استقبالیہ تقریب کا منگل کو انعقاد کیا گیا جس میں پاکستانی کمیونٹی، سفارتی حکام، مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات اور قومی ہاکی ٹیم کے کھلاڑیوں نے شرکت کی۔

لاہور۔16جون (اے پی پی):بیلجیم میں پاکستان ہاکی ٹیم کے اعزاز میں پاکستان ایمبیسی کی جانب سے ایک استقبالیہ تقریب کا منگل کو انعقاد کیا گیا جس میں پاکستانی کمیونٹی، سفارتی حکام، مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات اور قومی ہاکی ٹیم کے کھلاڑیوں نے شرکت کی۔اس موقع پر پاکستان کے سفیر رحیم حیات قریشی نے قومی ہاکی ٹیم کے کھلاڑیوں اور آفیشلز کا استقبال کرتے ہوئے نوجوان کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کی اور انہیں پاکستان کا روشن مستقبل قرار دیا۔پاکستان ہاکی فیڈریشن کے ترجمان وقاص شیخ کے مطابق تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان ہاکی ٹیم کے چیف کوچ منظور الحسن نے پاکستانی سفارتخانے اور سفیر کا شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے کہا کہ بیلجیم آمد کے بعد سے سفارتی عملے نے ٹیم کی جس محبت، خلوص اور پیشہ ورانہ انداز میں میزبانی کی ہے وہ قابل تعریف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایئرپورٹ پر آمد سے لے کر اب تک ایمبیسی کی جانب سے بھرپور رہنمائی اور دیکھ بھال کی گئی جبکہ کھلاڑیوں کو عزت، محبت اور حوصلہ افزائی فراہم کی گئی جس پر پوری ٹیم سفیر اور سفارتی عملے کی شکر گزار ہے۔منظور الحسن نے کہا کہ پاکستانی نوجوان کھلاڑی بے پناہ صلاحیتوں کے حامل ہیں تاہم کئی برسوں سے عالمی سطح کے بڑے مقابلوں سے دور رہنے کے باعث ان کے اعتماد پر اثر پڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان گزشتہ آٹھ برسوں سے نہ ہاکی ورلڈ کپ میں شرکت کر سکا ہے اور نہ ہی اولمپکس کا حصہ بن سکا، جس کے باعث نوجوان کھلاڑیوں کو عالمی معیار کی ٹیموں کے خلاف کھیلنے کے مواقع کم ملے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ یورپی دورہ قومی ٹیم کے لیے ایک اہم سیکھنے کا موقع ہے جہاں کھلاڑی دنیا کی بہترین ٹیموں کے خلاف میچز کھیل کر تجربہ حاصل کر رہے ہیں۔ ان کے بقول یہ میچز صرف مقابلے نہیں بلکہ ایک مکمل سیکھنے کا عمل ہیں، جن کا مقصد کھلاڑیوں کا اعتماد بحال کرنا، ان کی ذہنی مضبوطی میں اضافہ کرنا اور انہیں دباو میں بہتر کارکردگی کے لیے تیار کرنا ہے۔چیف کوچ نے کہا کہ کوچنگ اسٹاف کھلاڑیوں کی ذہنی تربیت، خود اعتمادی اور دبائو سے نمٹنے کی صلاحیتوں پر خصوصی توجہ دے رہا ہے۔

منظور الحسن نے امید ظاہر کی کہ یورپ میں مضبوط ٹیموں کے خلاف آٹھ میچز کھیلنے کے بعد قومی ٹیم اپنی کمزوریوں پر قابو پانے میں کامیاب ہوگی اور مستقبل میں بہتر نتائج دے گی۔ انہوں نے کہا کہ انہیں نوجوان کھلاڑیوں پر مکمل اعتماد ہے اور یہی ٹیم آنے والے برسوں میں پاکستان ہاکی کی شناخت بنے گی اور عالمی سطح پر سبز ہلالی پرچم کو دوبارہ سربلند کرے گی۔