سعودی عرب میں اقامہ، لیبر اور سرحدی قانون کی خلاف ورزی پر مزید 20 ہزار237 افراد گرفتار، 11ہزار 656 غیرقانونی تارکین کی بے دخلی

ریاض۔8فروری (اے پی پی):سعودی عرب میں ایک ہفتے کے دوران اقامہ، لیبر اور سرحدی قانون کی مزید 20 ہزار237 خلاف ورزیاں ریکارڈ کی گئیں جبکہ 11 ہزار 656 غیرقانونی تارکین کو ان کے ملک واپس بھیجا گیا۔ایس پی اے کے مطابق 29 جنوری سے 4 فروری 2026 کے درمیان مجموعی طور پر 12 ہزار687 اقامہ قانون، 4 ہزار 318 غیر قانونی سرحد عبور کرنے کی کوشش اور 3 ہزار 232 …

ریاض۔8فروری (اے پی پی):سعودی عرب میں ایک ہفتے کے دوران اقامہ، لیبر اور سرحدی قانون کی مزید 20 ہزار237 خلاف ورزیاں ریکارڈ کی گئیں جبکہ 11 ہزار 656 غیرقانونی تارکین کو ان کے ملک واپس بھیجا گیا۔ایس پی اے کے مطابق 29 جنوری سے 4 فروری 2026 کے درمیان مجموعی طور پر 12 ہزار687 اقامہ قانون، 4 ہزار 318 غیر قانونی سرحد عبور کرنے کی کوشش اور 3 ہزار 232 قانون محنت کی خلاف ورزیاں شامل ہیں۔

غیرقانونی طور پر سعودی عرب میں داخل ہونے کی کوشش پر ایک ہزار 555 افراد کو گرفتار کیا گیا، ان میں 57 فیصد ایتھوپین، 40 فیصد یمنی اور3 فیصد دیگر ملکوں سے تعلق رکھتے ہیں۔علاوہ ازیں 61 ایسے افراد کو بھی پکڑا گیا ہے جو سرحد پار کرکے سعودی عرب سے ہمسایہ ملکوں میں داخل ہونے کی کوشش کررہے تھے۔ سفر، رہائش، روزگار اور پناہ دینے کی کوششوں میں ملوث 32 افراد کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔

واضح رہے سعودی عرب میں غیرقانونی تارکین وطن کو سفری، رہائشی یا ملازمت کی سہولت فراہم کرنا قانوناً جرم ہے اور اس کے لیے مختلف سخت سزائیں مقرر ہیں۔ سعودی وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ جو بھی شخص غیر قانونی تارکین کو سعودی عرب میں داخل ہونے کی سہولت فراہم کرے گا، اسے 15 برس قید اور 10 لاکھ ریال تک جرمانے کے ساتھ گاڑی اور جائیداد کی ضبطی کی سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔