سعودی عرب میں مچھلی کی فارمنگ کے استعمال شدہ پانی سے آبپاشی کی جدید تکنیک متعارف

ریاض۔13ستمبر (اے پی پی):سعودی عرب کی وزارت ماحولیات نے مچھلی کی فارمنگ کے استعمال شدہ پانی سے آبپاشی کی جدید تکنیک متعارف کرائی ہے ۔ ایس پی اے نے وزارت ماحولیات کی جانب سے مچھلی کی فارمنگ کے حوالے سے کی جانے والی تحقیق بارے بتایا کہ آبپاشی کا یہ طریقہ مٹی کی غذائیت کی سطح میں اضافے کے باعث کھجور کی مختلف خصوصیات کو بڑھاتا ہے،فارمنگ سے مچھلی کی …

ریاض۔13ستمبر (اے پی پی):سعودی عرب کی وزارت ماحولیات نے مچھلی کی فارمنگ کے استعمال شدہ پانی سے آبپاشی کی جدید تکنیک متعارف کرائی ہے ۔ ایس پی اے نے وزارت ماحولیات کی جانب سے مچھلی کی فارمنگ کے حوالے سے کی جانے والی تحقیق بارے بتایا کہ آبپاشی کا یہ طریقہ مٹی کی غذائیت کی سطح میں اضافے کے باعث کھجور کی مختلف خصوصیات کو بڑھاتا ہے،فارمنگ سے مچھلی کی خوراک کی باقیات میں موجود غذائی اجزا خاص طور پر امونیا، مٹی کی صلاحیت اور کھجور کی فصل کی پیداوار کو بڑھاتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق مچھلی کے فارمنگ کے پانی سے سیراب ہونے والی کھجور کے وزن میں 26 فیصد، لمبائی میں 17 فیصد اور قطر میں 13 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔فش فارمنگ کے تالاب کے پانی سے کھجور کے اہم غذائی اجزا میں بھی اضافہ ہواہے جس میں مٹھاس کی مقدار میں 25 فیصد، زنک میں 367 فیصد، مینگنیج میں 112 فیصد، کیلشیم میں 15 فیصد، فاسفورس میں 42 فیصد اور آئرن میں 162 فیصد اضافہ شامل ہے۔

مطالعاتی تحقیق کے مطابق مملکت کے 362 فش فارمز سالانہ 386 ملین کیوبک میٹر پانی کی نکاسی کرتے ہیں۔فش فارم کے استعمال شدہ پانی سے کی جانے والی آبپاشی سے وژن 2030 کے پائیداری کے اہداف کے مطابق کھجور کی پیداوار اور معیار میں نمایاں بہتری آسکتی ہے۔