ریاض ۔2جنوری (اے پی پی):سعودی ٹرانسپورٹ جنرل اتھارٹی نے پارسل ڈیلیوری سروس کے لیے نیشنل ایڈریس’عنوان الوطنی‘ کے نظام پر عمل درآمد کا آغاز کردیا ہے۔سعودی خبررساں ایجنسی ’ایس پی اے‘ کے مطابق پارسل ڈیلیوری سروس سے منسلک کمپنیوں پرلازم ہوگا کہ وہ نئے نظام پرعمل کریں، کسی ایسی پوسٹل شپمنٹ کو قبول یا ٹرانسپورٹیشن نہ کریں جس میں نیشنل ایڈریس شامل نہ ہو۔ یاد رہے اتھارٹی نے نیشنل ایڈریس …
سعودی عرب میں پارسل ڈیلیوری سروس کے لیے نیشنل ایڈریس لازمی، عمل درآمد کا آغاز

مزید خبریں
ریاض ۔2جنوری (اے پی پی):سعودی ٹرانسپورٹ جنرل اتھارٹی نے پارسل ڈیلیوری سروس کے لیے نیشنل ایڈریس’عنوان الوطنی‘ کے نظام پر عمل درآمد کا آغاز کردیا ہے۔سعودی خبررساں ایجنسی ’ایس پی اے‘ کے مطابق پارسل ڈیلیوری سروس سے منسلک کمپنیوں پرلازم ہوگا کہ وہ نئے نظام پرعمل کریں، کسی ایسی پوسٹل شپمنٹ کو قبول یا ٹرانسپورٹیشن نہ کریں جس میں نیشنل ایڈریس شامل نہ ہو۔
یاد رہے اتھارٹی نے نیشنل ایڈریس سسٹم کے حوالے سے جنوری 2026 کی ڈیڈ لائن کا تعین کیا تھا۔پارسل کی ترسیل کےلیے کمپنیوں کو اس بات کا پابند کیا گیا تھا کہ وہ صارفین سے نیشنل ایڈریس حاصل کریں تاکہ ڈیلیوری سروس کے معیار کو بہتر اور منظم بنایا جائے۔اتھارٹی کا مزید کہنا تھا نیشنل ایڈریس کی خلا ف ورزی پر ابتدائی مرحلے میں جرمانہ کیا جائے گا جو 5 ہزار سے لے کر 50 ہزار تک ہو سکتا ہے۔’عنوان الوطنی‘ مختلف سرکاری ایپس کے ذریعے حاصل کیا جاسکتا ہے جن میں ابشر، توکلنا، صحتی اورسبل شامل ہیں۔ ان ایپس پر نیشنل ایڈریس کی سہولت موجود ہے۔ صارفین کے لیے بھی ضروری ہو گا کہ وہ پوسٹل یا پارسل ڈیلیوری سروس کےلیے اپنے نیشنل ایڈریس کے بارے میں کمپنی کو معلومات مہیا کریں۔








