سعودی عرب کا ایس ڈی ایف اور شامی ریاست کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے کا خیرمقدم

ریاض ۔19جنوری (اے پی پی):سعودی عرب نے شامی ریاست اور شامی ڈیموکریٹک فورسز کے درمیان ہونے والے معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے۔اردو نیوز کے مطابق وزارتِ خارجہ کے ایک بیان میں کیا گیا، مملکت نے دمشق اور کرد شامی ڈیموکریٹک فورسز کے درمیان اس معاہدے کا خیرمقدم کیا جس کا اعلان شامی حکومت نےکیا تھا۔معاہدے کے تحت شامی ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) کی تمام افواج کو وزارتِ دفاع اور …

ریاض ۔19جنوری (اے پی پی):سعودی عرب نے شامی ریاست اور شامی ڈیموکریٹک فورسز کے درمیان ہونے والے معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے۔اردو نیوز کے مطابق وزارتِ خارجہ کے ایک بیان میں کیا گیا، مملکت نے دمشق اور کرد شامی ڈیموکریٹک فورسز کے درمیان اس معاہدے کا خیرمقدم کیا جس کا اعلان شامی حکومت نےکیا تھا۔معاہدے کے تحت شامی ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) کی تمام افواج کو وزارتِ دفاع اور وزارتِ داخلہ میں ضم کیا جائے گا اور اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ کرد فورسز دریائے فرات کے مشرق میں دوبارہ تعینات ہوں گی۔14 نکاتی اس معاہدے کے تحت دیر الزور اور رقہ گورنریٹس کا فوری طور پر انتظامی اور عسکری کنٹرول بھی منتقل کر دیا جائے گا۔

اس معاہدے کے تحت شامی ریاست خطے میں موجود تمام سرحدی گزرگاہوں، آئل فیلڈز اور گیس کے ذخائر کا دوبارہ کنٹرول حاصل کر لے گی۔ جبکہ وسائل کی شامی حکومت کو واپسی کو یقینی بنانے کے لیے باقاعدہ سرکاری فورسز کے ذریعے تحفظ فراہم کیا جائے گا اور ساتھ ہی کرد علاقوں کی خصوصی حیثیت کو بھی مدنظر رکھا جائے گا۔یہ جنگ بندی حلب میں شامی ڈیموکریٹک فورسز(ایس ڈی ایف) اور سرکاری فوج کے درمیان شدید جھڑپوں کے بعد عمل میں آئی ہے۔

تاہم اب ایس ڈی ایف کی افواج وہاں سے پیچھے ہٹ چکی ہیں اور شامی فوج اس وقت حلب کے مشرق میں واقع بیشتر علاقوں پر کنٹرول قائم کر چکی ہے۔سعودی وزارتِ خارجہ کے بیان میں اس معاہدے پر امریکہ کا بھی شکریہ ادا کیا گیا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ واشنگٹن نے اپنے اتحادیوں، یعنی شامی ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) اور شامی حکومت کے درمیان جنگ بندی کرانے کے لیے ثالث کا کردار ادا کیا، جن کی وہ طویل عرصے سے اقتدار میں رہنے والے آمر بشار الاسد کے زوال کے بعد سفارتی طور پر بھی حمایت کرتا رہا ہے۔