اقوام متحدہ ۔15جنوری (اے پی پی):اقوام متحدہ میں سعودی عرب کے مستقل مندوب عبدالعزیز الواصل نے کہا ہے کہ سعودی عرب کی قومی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کی کوئی بھی کوشش ایک سرخ لکیر ہے اور اس کا بھرپور اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔ اردو نیوز کے مطابق یمن کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے منعقدہ سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئےسعودی سفیر نے …
سعودی عرب کی قومی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کی کوئی بھی کوشش سرخ لکیر ہے، بھرپور اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا،اقوام متحدہ میں سعودی مندوب عبدالعزیز الواصل کا یمن کی صورتحال بارے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب

مزید خبریں
اقوام متحدہ ۔15جنوری (اے پی پی):اقوام متحدہ میں سعودی عرب کے مستقل مندوب عبدالعزیز الواصل نے کہا ہے کہ سعودی عرب کی قومی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کی کوئی بھی کوشش ایک سرخ لکیر ہے اور اس کا بھرپور اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔ اردو نیوز کے مطابق یمن کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے منعقدہ سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئےسعودی سفیر نے کہا کہ ملک کے جنوب میں مسائل کے سماجی اور تاریخی پہلو ہیں جو صرف بات چیت سے حل ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم واضح کرتے ہیں کہ ہماری قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے کی کوئی بھی کوشش سرخ لکیر ہے اور ہم اس سے نمٹنے اور اسے ختم کرنے کے لئے ضروری اقدامات اُٹھانے میں نہیں ہچکچائیں گے۔
انہوں نے یمن کے صدر رشاد العلیمی، صدارتی قیادت کونسل اور یمنی حکومت کی حمایت کا اعادہ کیا تاکہ وہ ملک میں سلامتی، استحکام، ترقی اور امن قائم رکھ سکیں اور قومی اتحاد کو محفوظ رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ2 دسمبر 2025 کو حضرموت اور المہرہ میں جنوبی عبوری کونسل کی فوجی کارروائی یکطرفہ تھی، اس کی صدارتی کونسل سے منظوری نہیں لی گئی اور نہ ہی اسے یمن میں حکومت کی بحالی کے لئے بنائے گئے اتحاد کے ساتھ ہم آہنگ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس کارروائی سے غیر ضروری کشیدگی پیدا ہوئی، یمنی عوام کے مفادات کو نقصان پہنچا، جنوب کے مسائل کے حل کی کوششیں کمزور ہوئیں اور یہ اتحاد کے اہداف اور مقصد کے خلاف تھا۔
انہوں نے بتایا کہ سعودی عرب نے صورتحال پر قابو پانے کے لئے اپنے اتحاد کے شراکت داروں، صدارتی قیادت کونسل اور یمنی حکومت کے ساتھ مل کر ایک فوجی دستہ بھیجا تاکہ عدن میں جنوبی عبوری کونسل کے ساتھ تعاون کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اس کا مقصد یہ تھا کہ جنوبی کونسل کی فورسز حضرموت اور المہرہ سے باہر اپنے سابقہ مقامات پر واپس جائیں اور کیمپوں کی حوالگی لیجیٹمیٹ حکومتی فورسز اور مقامی حکام کو طے شدہ طریقہ کار کے مطابق ہو۔ انہوں نے حضرموت اور المہرہ میں فوجی کارروائیوں پر افسوس کا اظہار کیا، جو سعودی عرب کی جنوبی سرحد کے قریب ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ یہ براہِ راست سعودی عرب کی قومی سلامتی، یمن کی سلامتی اور خطے کے استحکام کے لئے خطرہ تھی۔سعودی سفیر نے کہا کہ یہ اقدامات انتہائی خطرناک تھے اور یمن میں قانونی حکومت کو بحال کرنے کے لئے بنائے گئے اتحاد کے اصولوں کے خلاف تھے۔ انہوں نے 23 دسمبر 2025 کو مسقط میں طے پانے والے قیدیوں اور حراستی افراد کے تبادلے کے معاہدے کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے عمان کی تعریف کی کہ اس نے مشاورت کی میزبانی اور تعاون کیا اور مذاکرات کی حمایت کی اور اقوام متحدہ کے یمن کے لئے خصوصی ایلچی ہانس گرنڈبرگ، بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی اور دیگر تمام فریقین کی کوششوں کو سراہا۔ سیاسی کوششوں کے حوالے سے سعودی سفیر نے کہا کہ سعودی عرب یمنی صدر رشاد العلیمی کی دعوت کا خیرمقدم کرتا ہے جس میں انہوں نے یمن کے جنوب میں موجودہ صورتحال کے منصفانہ حل کے لئے ریاض میں جامع کانفرنس کے انعقاد کا کہا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ یمنی حکومت اور جنوبی نمائندوں کے تعاون سے کانفرنس کی تیاری شروع ہو چکی ہے جو دونوں ممالک کے قریبی تعلقات اور یمن میں استحکام کے مشترکہ مفادات کی عکاسی کرتی ہے۔ سعودی سفیر نے تمام جنوبی فریقین پر زور دیا کہ وہ مذاکرات میں فعال اور تعمیری طور پر حصہ لیں تاکہ جامع اور منصفانہ حل تلاش کیا جا سکے جو جنوبی یمن کے عوام کی جائز امنگوں کو پورا کرے۔ انہوں نے تمام یمنی فورسز اور متعلقہ فریقین سے کہا کہ وہ تعاون کریں اور اپنے اقدامات تیز کریں تاکہ ایک دیرپا سیاسی حل تک پہنچا جا سکے جو سلامتی اور استحکام کو یقینی بنائے۔








