سعودی عرب کے ٹورسٹ پیکیج ویزا کی تفصیلات جاری

سعودی عرب کی وزارتِ سیاحت نے ٹورسٹ پیکیج ویزا سروس کا تجرباتی مرحلہ شروع کر دیا ہے،جس کا مقصد بین الاقوامی سیاحوں کے سفر کو ایک ہی سروس میں یکجا کرنا ہے جو ویزا، ہوائی سفر، رہائش اور انشورنس پر مشتمل ہو جبکہ اس میں سیاحتی تقریبات اور تجربات کو شامل کرنے کا آپشن بھی موجود ہے۔

ریاض۔13جولائی (اے پی پی):سعودی عرب کی وزارتِ سیاحت نے ٹورسٹ پیکیج ویزا سروس کا تجرباتی مرحلہ شروع کر دیا ہے،جس کا مقصد بین الاقوامی سیاحوں کے سفر کو ایک ہی سروس میں یکجا کرنا ہے جو ویزا، ہوائی سفر، رہائش اور انشورنس پر مشتمل ہو جبکہ اس میں سیاحتی تقریبات اور تجربات کو شامل کرنے کا آپشن بھی موجود ہے۔ العربیہ اردو کے مطابق وزارتِ سیاحت کے سرکاری ترجمان نصر الانصاری نے کہا ہے کہ یہ اقدام نہ صرف دفتری کارروائیوں کو مختصر کرے گا بلکہ مملکت کے لیے سیاحت کی نئی مارکیٹس اور زائرین کے نئے طبقات کے دروازے کھولے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام مملکت کی جانب سے بین الاقوامی سیاحوں کی آمد کو آسان بنانے کے لیے اختیار کیے گئے مربوط راستے کا تسلسل ہے، جس کا آغاز ای ویزا، ٹرانزٹ ویزا اور آن ارائیول ویزا کے اجرا سے ہوا تھا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ یہ نئی سروس روایتی سیاحتی ویزوں سے مختلف ہے کیونکہ یہ زائرین کو ایک منظور شدہ ٹریول اینڈ ٹورازم فراہم کنندہ کے ذریعے خدمات کا ایک مکمل مجموعہ حاصل کرنے کا موقع دیتی ہے، جس میں ویزا کا اجرا، ہوائی جہاز ، رہائش کی بکنگ اور انشورنس ایک ہی الیکٹرانک پیکیج میں شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سیاح کو اب ہر کارروائی الگ الگ مکمل کرنے کی ضرورت نہیں رہی کیونکہ وہ سفر کی منصوبہ بندی اور بکنگ سے لے کر مملکت میں آمد تک کے تمام انتظامات ایک ہی ڈیجیٹل راستے سے مکمل کر سکتے ہیں، جس سے سہولت اور تنظیم کی سطح بلند ہوگی اور زائرین کا تجربہ بہتر ہوگا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ ٹورسٹ پیکیج ویزا مملکت کی سیاحوں کے نئے طبقات تک رسائی کے دائرہ کار کو وسیع کرتا ہے جبکہ ای ویزانے 66 ممالک کے شہریوں کے لیے مملکت کے دروازے پہلے ہی کھول دیئے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ اقدام سعودی مقامات کی کشش کو بڑھانے، ان تک رسائی کو آسان بنانے اور سروس فراہم کرنے والوں کو ایسی مصنوعات تیار کرنے کے قابل بنانے کے لیے ہے جو مختلف بین الاقوامی منڈیوں کی ضروریات کے مطابق ہوں۔ یہ سروس سیاحتی اور تفریحی سرگرمیوں، تقریبات اور تجربات کے ٹکٹ پیکیج میں ہی شامل کرنے کی اجازت دیتی ہے جو سیاح کو زیادہ مربوط سفر فراہم کرتی ہے اور مملکت کے خطوں میں موجود تنوع اور وسائل سے استفادہ کو بڑھاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان خدمات کو یکجا کرنے کا اثر صرف طریقہ کار کو آسان بنانے تک محدود نہیں بلکہ یہ سیاحتی اخراجات کو بڑھانے، قیام کی مدت میں اضافہ کرنے اور مقامی سرگرمیوں اور مقامات کی مانگ کو متحرک کرنے تک پھیلا ہوا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ یہ اقدام سعودی ویژن 2030 کے اہداف کے حصول میں معاون ہو گا جس سے بین الاقوامی زائرین کی آمد میں آسانی، سیاحتی آمدنی میں اضافہ، مہمان نوازی کے مراکز میں رہائش کی شرح میں بہتری اور لائسنس یافتہ سیاحتی اداروں اور سرگرمیوں کو متحرک کرنے میں مدد ملتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزارت نے مطلوبہ معاشی اثرات حاصل کرنے کے لیے ضابطے وضع کیے ہیں، جن میں پیکیج کی کم از کم قیمت اور قیام کی مدت کا تعین شامل ہے تاکہ قومی آمدنی میں سیاحت کا حصہ بڑھایا جا سکے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ سروس منظور شدہ ٹریول اینڈ ٹورازم فراہم کرنے والوں کے لیے نئی منڈیوں تک پہنچنے اور ایسے پیکیجز ڈیزائن کرنے کے وسیع تر امکانات کھولتی ہے جو ویزا، نقل و حمل، رہائش اور تفریحی و ثقافتی تجربات کو یکجا کرتے ہیں۔

خدمات کے معیار کو یقینی بنانے کے لیے وزارت سیاحت نے تنظیمی تقاضے مقرر کیے ہیں جن میں چوبیس گھنٹے کال سینٹر اور تکنیکی معاونت کی فراہمی نیز مرکزی نظام کے ساتھ تکنیکی ربط شامل ہے تاکہ ایک قابل اعتماد اور اعلیٰ کارکردگی کا تجربہ فراہم کیا جا سکے۔ وزارتِ سیاحت کے ترجمان نے انکشاف کیا کہ وزارت خارجہ اور داخلہ کی وزارتوں کے ساتھ ہم آہنگی اور سعودی ٹورازم اتھارٹی اور انشورنس اتھارٹی کے تعاون سے اس سروس کو وسیع کرنے پر غور کرنے سے پہلے تجرباتی مرحلے کے نتائج کا جائزہ لیا جائے گا۔ یہ سروس ایسے وقت میں شروع کی گئی ہے جب مملکت نے ویژن 2030میں مقررہ وقت سے پہلے 100 ملین زائرین کے استقبال کا ہدف عبور کر لیا ہے، جو شعبے کی تیز رفتار ترقی اور اس کے توسیعی مرحلے میں داخل ہونے کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس اقدام کے ساتھ ساتھ وزارت ’’ٹورازم آرٹیفیشل انٹیلی جنس وژن‘‘کے ذریعے ڈیجیٹل تبدیلی اور سمارٹ سیاحت کو فروغ دینے کی کوشش کر رہی ہے، جس کا مقصد دنیا کے سب سے ترقی یافتہ سمارٹ سیاحتی نظاموں میں سے ایک کی تعمیر ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ وزارت سیاحت نے ٹورازم ایکس پلیٹ فارم شروع کیا ہے، جو فی الحال مصنوعی ذہانت سے چلنے والے 6 ٹولز فراہم کرتا ہے، اس کے علاوہ سمارٹ انسپکٹر اور سمارٹ ہاؤسنگ جیسی ڈیجیٹل مصنوعات بھی شامل ہیں۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ 20 سے زائد نئی ڈیجیٹل مصنوعات تیار کرنے پر کام جاری ہے، جنہیں آئندہ 3 سالوں کے دوران لانچ کیے جانے کی توقع ہے۔ یہ سب ایک زیادہ موثر، پائیدار اور مسابقتی سیاحتی شعبہ بنانے اور قومی معیشت کو متنوع بنانے میں اس کے کردار کو بڑھانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔

مزید خبریں