سعودی عرب کے سلام پراجیکٹ برائے ثقافتی رابطہ سعودی نوجوان مرد و خواتین کو علم، عملی مہارتوں اور قائدانہ صلاحیتوں سے آراستہ کر رہا ہے تاکہ وہ عالمی سطح پر مملکت سعودی عرب کی مؤثر نمائندگی کر سکیں اور بین الثقافتی مکالمے اور مہذب ابلاغ کے ذریعے سعودی عرب کے مثبت بین الاقوامی تشخص کو مزید مستحکم بنایا جا سکے۔
سعودی نوجوانوں کو مملکت کی اقدار کے عالمی سفیر بنانے میں سلام پراجیکٹ کلیدی کردار ادا کر رہا ہے،ڈاکٹر ابرار عبدالمنان بار

مزید خبریں
ریاض۔1جولائی (اے پی پی):سعودی عرب کے سلام پراجیکٹ برائے ثقافتی رابطہ سعودی نوجوان مرد و خواتین کو علم، عملی مہارتوں اور قائدانہ صلاحیتوں سے آراستہ کر رہا ہے تاکہ وہ عالمی سطح پر مملکت سعودی عرب کی مؤثر نمائندگی کر سکیں اور بین الثقافتی مکالمے اور مہذب ابلاغ کے ذریعے سعودی عرب کے مثبت بین الاقوامی تشخص کو مزید مستحکم بنایا جا سکے۔
سلام پراجیکٹ برائے ثقافتی رابطہ کی چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر ابرار عبدالمنان بار نے الاخباریہ ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گلوبل لیڈرشپ اِن کمیونیکیشن پروگرام ایک منفرد قومی اقدام ہے، جو روایتی قائدانہ تربیت سے ہٹ کر ثقافتی ابلاغ، تہذیبی روابط اور عالمی سطح پر سعودی عرب کے مثبت تاثر کو اجاگر کرنے پر خصوصی توجہ دیتا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام محض ایک تربیتی کورس نہیں بلکہ ایک جامع تعلیمی و عملی سفر ہے، جس میں شرکاء کو سب سے پہلے اپنے وطن سعودی عرب، اس کی ترقی، قومی کامیابیوں، تہذیبی و انسانی اقدار، ثقافتی شناخت اور عالمی کردار سے گہری آگاہی فراہم کی جاتی ہے۔ اس کے بعد انہیں وہ عملی مہارتیں سکھائی جاتی ہیں جو بین الاقوامی فورمز پر مملکت کی مؤثر، باوقار اور پیشہ ورانہ نمائندگی کے لیے ناگزیر ہیں۔
ڈاکٹر ابرار عبدالمنان بار کے مطابق پروگرام کا بنیادی مقصد ایسے باصلاحیت نوجوان تیار کرنا ہے جو سعودی عرب کی حقیقی تصویر، اس کے بڑھتے ہوئے عالمی کردار اور قومی تشخص کو اعتماد، فہم اور مہارت کے ساتھ دنیا کے سامنے پیش کر سکیں، جبکہ ان میں اپنی تہذیبی شناخت اور قومی ورثے سے وابستگی بھی مزید مضبوط ہو۔انہوں نے کہا کہ اس پروگرام کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اس میں محض نظریاتی تعلیم پر اکتفا نہیں کیا جاتا بلکہ حقیقی زندگی کے عملی تجربات کو مرکزی حیثیت دی جاتی ہے۔ شرکاء کو تجربہ کار سفارت کاروں، مقامی و بین الاقوامی ماہرین اور ابلاغ عامہ کے متخصصین سے براہِ راست سیکھنے کا موقع فراہم کیا جاتا ہے، جس سے انہیں سفارت کاری، عالمی ابلاغ اور بین الثقافتی روابط کے عملی تقاضوں سے آگاہی حاصل ہوتی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ پروگرام میں خصوصی تعلیمی مواد، فکری و تربیتی نشستیں، مطالعاتی دورے اور عملی منصوبے بھی شامل ہیں، جن کے ذریعے شرکاء اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں، خود اعتمادی اور مؤثر ابلاغ کی مہارتوں کو فروغ دیتے ہیں اور عالمی سطح پر سعودی عرب کے ذمہ دار نمائندے بننے کے لیے درکار تمام اوصاف حاصل کرتے ہیں۔ڈاکٹر ابرار عبدالمنان بار نے کہا کہ پروگرام مکمل کرنے والے نوجوان نہ صرف جامع علمی و عملی تربیت حاصل کرتے ہیں بلکہ وہ ایسی قائدانہ اور ابلاغی صلاحیتوں سے بھی مزین ہوتے ہیں جو انہیں بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر سعودی عرب کی نمائندگی کرتے ہوئے مثبت، مؤثر اور دیرپا تاثر قائم کرنے کے قابل بناتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سلام پراجیکٹ برائے ثقافتی رابطہ سعودی عرب کا ایک قومی اقدام ہے، جس کا مقصد مختلف تہذیبوں کے درمیان مکالمے کو فروغ دینا، اقوام کے درمیان باہمی احترام اور افہام و تفہیم کو مستحکم کرنا، اور سعودی نوجوانوں کو عالمی سطح پر تعمیری کردار ادا کرنے کے لیے تیار کرنا ہے۔اس مقصد کے لیے پراجیکٹ خصوصی تربیتی پروگراموں، عملی تجربات اور جدید ابلاغی مہارتوں کے ذریعے نوجوانوں کو مختلف ثقافتوں کے ساتھ مؤثر رابطہ استوار کرنے، بین الاقوامی فورمز میں فعال شرکت کرنے اور سعودی عرب کے مثبت عالمی تشخص کو مزید اجاگر کرنے کے قابل بناتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سلام پراجیکٹ سعودی وژن 2030 کے اہداف سے ہم آہنگ ہے، جس کے تحت مملکت کھلے پن، بقائے باہمی، ثقافتی تبادلوں اور تعمیری عالمی شراکت داری کو فروغ دیتے ہوئے باصلاحیت قومی افرادی قوت کے ذریعے عالمی سطح پر اپنی مؤثر موجودگی کو مزید مستحکم کر رہی ہے۔








