سلامتی کونسل کے ایجنڈے نے واضح کر دیا کہ تنازعہ کشمیر عالمی مسئلہ ہے،55 برس کے بعد یہ مسئلہ تیسری مرتبہ کونسل میں زیر بحث آیا، وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی

اسلام آباد ۔ 6 اگست (اے پی پی)وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ سلامتی کونسل کے ایجنڈے نے واضح کر دیا کہ تنازعہ کشمیر عالمی نوعیت کا مسئلہ ہے،55 برس کے بعد یہ مسئلہ تیسری مرتبہ سلامتی کونسل میں زیر بحث آیا، ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا۔ جمعرات کو اپنے ایک بیان میں وزیر خارجہ نے کہا کہ ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا کہ مسئلہ کشمیر …

اسلام آباد ۔ 6 اگست (اے پی پی)وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ سلامتی کونسل کے ایجنڈے نے واضح کر دیا کہ تنازعہ کشمیر عالمی نوعیت کا مسئلہ ہے،55 برس کے بعد یہ مسئلہ تیسری مرتبہ سلامتی کونسل میں زیر بحث آیا، ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا۔ جمعرات کو اپنے ایک بیان میں وزیر خارجہ نے کہا کہ ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا کہ مسئلہ کشمیر سکیورٹی کونسل کے اندر ایک سال کے دورانیہ میں تیسری مرتبہ زیر بحث آیا ہو، بھارت نے بھرپور کوشش کی کہ یہ مباحثہ نہ ہو پائے مگر انہیں ناکامی ہوئی۔انہوں نے کہا کہ میں نے سلامتی کونسل کے صدر کو بذریعہ خط مطلع کیا تھا کہ بھارتی غیر قانونی مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال تیزی سے بگڑ رہی ہے، بھارت نے پورے خطہ کے امن و امان کو داو¿ پر لگا دیا ہے، میں نے صدر سلامتی کونسل سے درخواست کی کہ اس مسئلہ کو فوری طور پر زیرِ بحث لایا جائے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ میں انتہائی شکر گزار ہوں کہ میری اس درخواست کے 72 گھنٹوں کے اندر نہ صرف اسے ایجنڈے پر رکھا گیا بلکہ اس پر سیر حاصل بحث ہوئی۔ 15 میں سے 14 ممبر ممالک نے اس بحث میں حصہ لیا۔ ہندوستان جو یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہا تھا کہ یہ دوطرفہ یا اندرونی مسئلہ ہے اس کی نفی ہو گئی۔ سلامتی کونسل کے ایجنڈے نے واضح کر دیا کہ یہ عالمی نوعیت کا مسئلہ ہے۔ 55 برس کے بعد یہ مسئلہ تیسری مرتبہ سلامتی کونسل میں زیر بحث آیا اور دیکھنے کی بات یہ ہے کہ یہ مباحثہ 5 اگست کے اہم دن منعقد ہوا۔ یہ اﷲ تعالیٰ کے فضل و کرم سے پاکستان کیلئے ایک اور سفارتی کامیابی ہے، میں پوری قوم کا شکرگزار ہوں کہ انہوں نے ہر سطح پر جلوس نکالے۔ انہوں نے کہا کہ دور افتادہ علاقوں کے لوگوں نے بھی مقبوضہ کشمیر کے باسیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا۔ میں تمام سینیٹرز کا شکرگزار ہوں کہ انہوں نے متفقہ طور پر وزارت خارجہ کی طرف سے پیش کی گئی قرارداد کو َمنظور کیا۔وزیر خارجہ نے چیرمین سینٹ صادق سنجرانی صاحب کا بھی شکر یہ ادا کیا کہ انہوں نے مختصر وقت میں اجلاس کا انعقاد کیا۔ وزیر خارجہ نے کہ میں صدر پاکستان عارف علوی کا بھی ممنون ہوں کہ انہوں نے کھل کر اظہار خیال کیا۔ وزیراعظم عمران خان کل مظفرآباد تشریف لے گئے اور آزاد جموں و کشمیر کی قانون ساز اسمبلی سے مخاطب ہوئے۔ پاکستان کا جو نیا سیاسی نقشہ سامنے آیا ہے اس کو بہت پذیرائی حاصل ہوئی اور لوگوں کے حوصلے بلند ہوئے، کشمیر کے معاملہ پر پوری قوم نے اتفاق کیا۔ سینٹ کا ماحول جذبہ حب الوطنی سے سرشار تھا۔ ہم نے کشمیر کے مسئلہ پر گفتگو کیلئے وزارت خارجہ میں تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماو¿ں کو مدعو کیا، ہماری خواہش تھی کہ جے یو آئی ایف کا وفد بھی ہمارے ساتھ شامل ہوتا۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن تو خود کشمیر کمیٹی کے چیئرمین رہے ہیں انہیں تو مسئلہ کی نزاکت کا سب سے زیادہ علم تھا۔