سلامتی کونسل کے مستقل اراکین کی جانب سے پندرہ رکنی تنطیمی ڈھانچے میں اصلاحات کی موجودہ کاوشوں سے سلامتی کونسل کو زیادہ جمہوری ، نمائندہ ادارہ ، شفاف اور موثر بنانے کا عمل متاثر ہوگا، ملیحہ لودھی

اسلام آباد ۔ 04مئی(اے پی پی) پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اصلاحات کے حوالے سے بے بنیاد اقدامات سے گریز کرتے ہوئے ادارے کی کارکردگی میں بہتری کیلئے درجہ بدرجہ اقدامات کی تجویز پیش کی ہے۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی نے خبردار کیا ہے کہ سلامتی کونسل کے مستقل اراکین کی جانب سے پندرہ رکنی باڈی میں اصلاحات کی موجودہ کاوشوں سے …

اسلام آباد ۔ 04مئی(اے پی پی) پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اصلاحات کے حوالے سے بے بنیاد اقدامات سے گریز کرتے ہوئے ادارے کی کارکردگی میں بہتری کیلئے درجہ بدرجہ اقدامات کی تجویز پیش کی ہے۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی نے خبردار کیا ہے کہ سلامتی کونسل کے مستقل اراکین کی جانب سے پندرہ رکنی باڈی میں اصلاحات کی موجودہ کاوشوں سے سلامتی کونسل کو زیادہ جمہوری ، نمائندہ ادارہ ، شفاف اور موثر بنانے کا عمل متاثر ہوگا۔ سلامتی کونسل میں اصلاحات کی مقاصد کیلئے بین الحکومتی مذاکرات کے حوالے سے بحث میں حصہ لیتے ہوئے پاکستانی سفیر نے کہا کہ اصلاحات کے حوالے سے بنیادی اختلافات کا اظہار ہوتا ہے اور سلامتی کونسل کے اراکین کے اختلافات کو بیانات کی بنیادوں پر ختم نہیں کیا جاسکتا ۔ انہوں نے کہا کہ فریقین کے اختلافات کے خاتمہ کیلئے درجہ بدرجہ اقدامات کی ضرورت ہے اور عدم اتفاق رائے سے گریز کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ بے بنیاد اقدامات سے نہ صرف ادارے کی کارکردگی متاثر ہوگی بلکہ سلامتی کونسل میں اصلاحات کا جامع عمل بھی بری طرح متاثر ہوسکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے اصلاحات کے ایجنڈے کے باوجود رکن ممالک بعض تفصیلات پر تیزی سے تقسیم ہوئے ہیں۔ پاکستانی سفیر نے کہا کہ گروپ آف فور کے نام سے مشہور بھارت ، برازیل ، جرمنی اور جاپان کو سلامتی کونسل کا مستقل رکن بنانے کیلئے اقدامات کئے جا رہے ہیں اور یہ ممالک سلامتی کونسل میں دس نشستوں کے اضافہ کے حوالے سے اپنی مہم میں کسی لچک کا مظاہرہ نہیں کر رہے جس کے تحت سلامتی کونسل کے اراکین کی تعداد 10 تک بڑھائی جائیگی جن میں 6مستقل رکن جبکہ 4 غیر مستقل اراکین شامل ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ دوسری جانب اٹلی اور پاکستان کی قیادت میں گروپ کی جانب سے اتفاق رائے پیدا کیا جا رہا ہے کہ مستقل اراکین کی تعداد میں اضافہ سے سلامتی کونسل زیادہ موثر نہیں ہوسکتی ۔ اس سے جمہوریت کی بھی نفی ہوتی ہے جو سلامتی کونسل میں انتخاب کے ذریعے اراکین کا چناﺅ ہے ۔ اس وقت کونسل کے 5 مستقل اراکین میں برطانیہ ، چین ،فرانس ،روس اور امریکہ شامل ہیں جبکہ غیر مستقل اراکین کی تعداد دس ہے ۔ ملیحہ لودھی نے کہا کہ اصلاحات کے نام پر کثیر الجہتی مقاصد متاثر ہونگے اور اس سے فیصلوں کا اختیار چند مخصوص ممالک تک محدود ہو جائیگا اور یہ درست فیصلہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کو عالمی سطح پر امن و سلامتی کے حوالے سے مسائل کا سامنا ہے اور کونسل بھی اس پر عمل درآمد کو موثر نہیںبنا سکتی ۔ انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل میں اصلاحات اور کارکردگی میں بہتری کیلئے عالمی سطح پر اتفاق رائے ضروری ہے ۔

Leave a Reply