معروف صحافی، سماجی کارکن و شاعرہ عابدہ اقبال آزاد کی برسی (کل)پیر 20 اپریل کو منائی جائے گی۔ انہوں نے پاکستان کے ادبی منظر نامہ پر گہرے نقوش چھوڑے ہیں۔ان کی ادبی خدمات عصر حاضر کے ابھرتے ہوئے مصنفین کے لیے رہنمائی کا باعث ہیں۔ عابدہ اقبال آزاد کی شاعری اور کہانیاں آج بھی قارئین کے لیے ترو تازہ ہیں۔
سماجی کارکن و شاعرہ عابدہ اقبال آزاد کی برسی کل منائی جائے گی

مزید خبریں
اسلام آباد۔19اپریل (اے پی پی):معروف صحافی، سماجی کارکن و شاعرہ عابدہ اقبال آزاد کی برسی (کل)پیر 20 اپریل کو منائی جائے گی۔ انہوں نے پاکستان کے ادبی منظر نامہ پر گہرے نقوش چھوڑے ہیں۔ان کی ادبی خدمات عصر حاضر کے ابھرتے ہوئے مصنفین کے لیے رہنمائی کا باعث ہیں۔ عابدہ اقبال آزاد کی شاعری اور کہانیاں آج بھی قارئین کے لیے ترو تازہ ہیں۔ عابدہ اقبال آزاد کے مشہور ادب پاروں میں 1971 کی پاک بھارت جنگ اور اس وقت کے مشرقی پاکستان میں سیاسی بغاوت کے تناظر میں لکھی گئی تصانیف ’’ڈیٹ لائن ڈھاکہ‘‘ اور ’’آگ کا دریا ہے اور ڈوب کر جانا ہے ‘‘ شامل ہیں۔انہوں نے ادبی شخصیت ہونے کے ساتھ ساتھ ایک کالم نگار کی حیثیت سے بھی معاشرے میں ٹھوس کردار ادا کیا۔عابدہ اقبال نے اپنی شاعری اور نثر کو سماجی ناانصافیوں سے لے کر سیاسی بدعنوانی تک ملک کو درپیش اہم مسائل پر روشنی ڈالنے کے لئے پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کیا ۔
انہوں نے اپنے صحافتی کیریئر کا آغاز بہت کم عمری میں بطور فیچر رپورٹر کیا تھا اور اپنے خاندانی نام عابدہ یاسمین ربانی کے ساتھ بنگلہ دیش آبزرور اور بنگلہ دیش ٹائمز میں خدمات انجام دیں۔ ایم بی بی ایس کرنے کے بعد انہوں نے شادی کر لی اور کراچی منتقل ہو گئیں۔ عابدہ اقبال آزاد ایک سرگرم شاعرہ تھیں جنہوں نے اپنی متاثر کن تحریروں کے ذریعے اپنے خیالات اور جذبات کا بھرپور اظہار کیا۔ انہوں نے سماجی اور سیاسی مسائل کو اپنی ادبی و صحافتی کاوشوں کا موضوع بنانے کے ساتھ ساتھ انسانی اور خواتین کے حقوق کے لئے سماجی اور سیاسی کارکن کے طور پر بھی بھرپور کردار ادا کیا۔
عابدہ اقبال آخری دم تک کالم نگار کی حیثیت سے مختلف خبر رساں اداروں سے وابستہ رہیں۔ ان کی تخلیقات میں سعادت حسین منٹو، خلیل جبران اور رابندر ناتھ ٹیگور کی تخلیقات کا اردو ترجمہ بھی شامل ہے۔عابدہ اقبال آزاد کئی غیر منافع بخش تنظیموں (این جی اوز)سے بھی منسلک رہیں اور وہ آرٹس کونسل آف پاکستان (اے سی پی) کی تاحیات رکن بھی تھیں۔ وہ 20 اپریل 2012 کو دار فانی سے کوچ کر گئیں۔ عابدہ اقبال آزاد کی برسی کے موقع پر علمی، ادبی اور صحافتی حلقوقں کی جانب سے ان کی خدمات کے اعتراف میں مختلف تقاریب کا انعقاد کیا جائے گا۔








