لاہور۔20فروری (اے پی پی):لاہور ہائیکورٹ نے سموگ اور ماحولیاتی آلودگی کے تدارک کے حوالے سے دائر درخواستوں پر سماعت کرتے وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی کو باقاعدہ توہین عدالت کا نوٹس جاری کردیا ۔عدالت نے لاہور کے تاریخی اندورن شہر شیرانوالہ گیٹ اور ٹیکسالی گیٹ پراجیکٹس پر حکم امتناعی میں بھی توسیع کردی۔ عدالت نے متعلقہ محکموں سے عملدرآمد رپورٹس طلب کرتے ہوئے سماعت ایک ہفتے کے لیے ملتوی کر دی۔ …
سموگ اور ماحولیاتی آلودگی کے تدارک کے حوالے سے دائر درخواستوں پر سماعت

مزید خبریں
لاہور۔20فروری (اے پی پی):لاہور ہائیکورٹ نے سموگ اور ماحولیاتی آلودگی کے تدارک کے حوالے سے دائر درخواستوں پر سماعت کرتے وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی کو باقاعدہ توہین عدالت کا نوٹس جاری کردیا ۔عدالت نے لاہور کے تاریخی اندورن شہر شیرانوالہ گیٹ اور ٹیکسالی گیٹ پراجیکٹس پر حکم امتناعی میں بھی توسیع کردی۔ عدالت نے متعلقہ محکموں سے عملدرآمد رپورٹس طلب کرتے ہوئے سماعت ایک ہفتے کے لیے ملتوی کر دی۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے سموگ کے تدارک کیس میں ہارون فاروق ، اظہر صدیق سمیت دیگر کی ایک ہی نوعیت کی دائر درخواستوں پر سماعت کی جس میں ماحولیاتی آلودگی اور سموگ کے تدارک کیلئے اقدامات نہ کرنے کی نشاندہی کی گئی ۔ جمعہ کے روز دوران سماعت متعلقہ محکموں کے اعلی حکام پیش ہوئے اور اپنی اپنی کارکردگی رپورٹ پیش کیں۔ دوران سماعت ممبر جوڈیشل واٹر کمیشن نے بتایا کہ درختوں کی پالیسی سے متعلق اجلاس میں پی ایچ اے کا کوئی نمائندہ شریک نہیں ہوا۔
وی سی پنجاب یونیورسٹی کی جانب سے تحریری جواب جمع کرایا گیا۔ پنجاب یونیورسٹی کے وکیل نے کہا کہ وی سی کہتے ہیں کہ انہیں درخت کٹوانے کا اختیار ہے ۔عدالت نے ریمارکس دیے کہ درختوں کی کٹائی بارے عدالت کے واضح احکامات موجود ہیں۔ وائس چانسلر کو باقاعدہ توہین عدالت کا نوٹس کیا جاتا ہے۔ عدالت نے آئندہ سماعت پر متعلقہ محکموں سے عملدرآمد رپورٹس طلب کرتے ہوئے سماعت ایک ہفتے کے لیے ملتوی کر دی۔








