اسسٹنٹ ڈائریکٹر زراعت (توسیع) کمالیہ علی محتشم نے کہا ہے کہ سموگ ماحولیاتی آلودگی کی ایک سنگین شکل ہے ، جس سے انسانی صحت، ماحول اور فصلوں پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
سموگ کے تدارک کے لیے ہر شہری کو اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا چاہیے ،اسسٹنٹ ڈائریکٹر زراعت کمالیہ

مزید خبریں
کمالیہ 09 ستمبر (اے پی پی):اسسٹنٹ ڈائریکٹر زراعت (توسیع) کمالیہ علی محتشم نے کہا ہے کہ سموگ ماحولیاتی آلودگی کی ایک سنگین شکل ہے ، جس سے انسانی صحت، ماحول اور فصلوں پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ سموگ کے تدارک کے لیے ہر شہری کو اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے حکومت کے ماحولیاتی اقدامات میں بھرپور تعاون کرنا چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ فصلوں کی باقیات، خصوصاً دھان کے مڈھ اور پرالی کو ہرگز آگ نہ لگائی جائے بلکہ جدید زرعی طریقوں کے ذریعے اسے زمین میں شامل کیا جائے یا مناسب طریقے سے تلف کیا جائے ۔ فصلوں کی باقیات جلانے سے پیدا ہونے والا دھواں فضائی آلودگی اور سموگ میں اضافے کا اہم سبب بنتا ہے ۔علی محتشم نے کاشتکاروں سے اپیل کی کہ وہ فصلوں کی باقیات جلانے کے بجائے محکمہ زراعت کی ہدایات پر عمل کریں اور ماحول دوست زرعی طریقوں کو اپنائیں۔ انہوں نے کہا کہ صاف اور صحت مند ماحول ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے ، اس لیے حکومت، کسان اور شہری مل کر سموگ کے خاتمے میں اپنا کردار ادا کریں







