سندھ حکومت نے فش ہاربر کو یورپی یونین کے معیار کے مطابق اپ گریڈ کرنے کیلئے جامع منصوبہ بندی کا آغاز کر دیا، صوبائی وزیرمحمد علی ملکانی

کراچی۔ 18 نومبر (اے پی پی):صوبائی وزیر لائیو اسٹاک اینڈ فشریز محمد علی ملکانی نے کہا ہے کہ سندھ حکومت نے کراچی فش ہاربر کو یورپی یونین کے مقرر کردہ معیار کے مطابق اپ گریڈ کرنے کیلئے جامع منصوبہ بندی کا آغاز کر دیا ہے تاکہ یورپی آڈٹ وفد کے دورے سے قبل ہاربر کو مکمل طور پر یورپی اسٹینڈرڈز پر ہم آہنگ کیا جا سکے۔منگل کو جاری اعلامیہ کے …

کراچی۔ 18 نومبر (اے پی پی):صوبائی وزیر لائیو اسٹاک اینڈ فشریز محمد علی ملکانی نے کہا ہے کہ سندھ حکومت نے کراچی فش ہاربر کو یورپی یونین کے مقرر کردہ معیار کے مطابق اپ گریڈ کرنے کیلئے جامع منصوبہ بندی کا آغاز کر دیا ہے تاکہ یورپی آڈٹ وفد کے دورے سے قبل ہاربر کو مکمل طور پر یورپی اسٹینڈرڈز پر ہم آہنگ کیا جا سکے۔منگل کو جاری اعلامیہ کے مطابق اس حوالے سے صوبائی وزیر لائیو اسٹاک اینڈ فشریز محمد علی ملکانی کی زیرصدارت ایک اجلاس منعقد ہواجس میں فش ہاربر سے متعلق ترقیاتی اور تکنیکی امور پر تفصیل سے غور کیا گیا۔ فش ہاربر کی اسٹریٹ لائٹس کی خرابی کا نوٹس لیتے ہوئے صوبائی وزیر نے ہدایت دی کہ تمام اسٹریٹ لائٹس کی تنصیب اور بحالی کا کام دو ماہ کے اندر مکمل کیا جائے۔اجلاس میں صفائی کے ناقص انتظامات، ریڈ زون میں تجاوزات اور ناکارہ لانچوں کی موجودگی پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے صوبائی وزیر نے کہا کہ ہاربر کی صفائی روزانہ کی بنیاد پر یقینی بنائی جائے اور ریڈ زون سے قبضہ ختم کیا جائے۔

انہوں نے نااہل اور ناکارہ لانچوں کی فوری بیدخلی سمیت بوٹس کی رجسٹریشن اور وائرلیس سسٹم اپ گریڈ کرنے کی بھی ہدایت دی ۔صوبائی وزیر نے اجلاس کو بتایا کہ یورپی یونین کا آڈٹ وفد جلد کراچی فش ہاربر کا دورہ کرے گا، اس لیے تمام محکمے اپنی ذمہ داریاں بروقت اور مکمل طور پر ادا کریں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یورپی یونین سے کلیئرنس ملنے کے بعد مچھلی کی یورپی ممالک سمیت دیگر ممالک کو برآمد میں نمایاں اضافہ ہوگا، جس سے ملک کے زرِمبادلہ کے ذخائر بہتر ہوں گے۔اجلاس میں سیکرٹری لائیو اسٹاک ڈاکٹر قاظم حسین جتوئی، ڈی جی میرین فشریز ڈاکٹر منصور وسان، ایم ڈی فش ہاربر ڈاکٹر زاہد کیمٹیو، ایڈیشنل سیکرٹری ٹیکنیکل ڈاکٹر علی محمد مستوئی، ڈپٹی سیکرٹری لائیو اسٹاک محمد عمران، ورکس اینڈ سروسز، پی اینڈ ڈی بلڈنگ ڈپارٹمنٹ اور فشریز کے دیگر انجینئرز و افسران نے شرکت کی۔