سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈوجام کے لطیف فارم پر ٹشو کلچر ٹیکنالوجی کے تحت “ڈھاکہ ورائٹی” کے کیلے کی کاشت کا باقاعدہ افتتاح وائس چانسلر ڈاکٹر الطاف علی سیال نے کیا۔ اس جدید تجربے میں کیلے کے ساتھ انٹرکراپنگ کے طور پر مرچ کی فصل بھی کاشت کی جائے گی، جس کا مقصد زمین کے بہتر استعمال کے ساتھ کاشتکاروں کی آمدنی میں اضافہ کرنا ہے
سندھ زرعی یونیورسٹی میں ٹشو کلچر کیلے کی کاشت اور مرچ کی انٹرکراپنگ کا جدید منصوبہ شروع

مزید خبریں
حیدرآباد۔ 07 اپریل (اے پی پی):سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈوجام کے لطیف فارم پر ٹشو کلچر ٹیکنالوجی کے تحت “ڈھاکہ ورائٹی” کے کیلے کی کاشت کا باقاعدہ افتتاح وائس چانسلر ڈاکٹر الطاف علی سیال نے کیا۔ اس جدید تجربے میں کیلے کے ساتھ انٹرکراپنگ کے طور پر مرچ کی فصل بھی کاشت کی جائے گی، جس کا مقصد زمین کے بہتر استعمال کے ساتھ کاشتکاروں کی آمدنی میں اضافہ کرنا ہے۔وائس چانسلر ڈاکٹر الطاف علی سیال نے یونیورسٹی کے لطیف تجرباتی فارم میں 18 ایکڑ رقبے پر ٹشو کلچر پودوں کے ذریعے کیلے کی فصل کی کاشت مہم میں خود پودے لگا کر افتتاح کیا۔ اس موقع پر ہائی پاور فارمز کمیٹی کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر منظور علی ابڑو، ڈائریکٹر فارمز ڈاکٹر محمد مٹھل لنڈ سمیت یونیورسٹی کے مختلف افسران بھی موجود تھے اور انہوں نے تجرباتی فیلڈ میں کاشت کے عمل میں حصہ لیا۔مختصر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر ڈاکٹر الطاف علی سیال نے کہا کہ سندھ میں ٹشو کلچر کیلے کی کاشت سے فی ایکڑ 30 سے 40 فیصد تک زیادہ پیداوار حاصل کی جا سکتی ہے، جبکہ بیماریوں کے حملے کے خطرات کم ہو جاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عالمی معیار کے مطابق فصل تیار کر کے سندھ کے کیلے کی برآمدات کو عالمی منڈی میں بڑے پیمانے پر فروغ دیا جا سکتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ زرعی شعبے کو منافع بخش بنانے کے لیے کاشتکاروں کو جدید زرعی ٹیکنالوجی سے آگاہ کرنا، انہیں جدید تجربات میں شامل کرنا، بہتر اجناس کا انتخاب، شیلف لائف میں بہتری اور مقامی و عالمی منڈیوں تک رسائی کو یقینی بنانا ناگزیر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹشو کلچر کیلے کی کاشت سے بیماریوں سے پاک، یکساں اور زیادہ پیداوار دینے والے پودے حاصل ہوتے ہیں، جبکہ انٹرکراپنگ کے ذریعے ایک ہی زمین سے دوہرا فائدہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ چیئرمین ہائی پاور فارمز کمیٹی ڈاکٹر منظور علی ابڑو نے وائس چانسلر کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی کے فارمز کو تحقیق اور عملی تجربات کے لیے استعمال کرنے سے طلبہ اور کاشتکاروں دونوں کو سیکھنے کے بہترین مواقع فراہم ہوتے ہیں۔ڈائریکٹر فارمز ڈاکٹر محمد مٹھل لنڈ نے اپنے خطاب میں کہا کہ لطیف فارم پر جاری یہ تجربہ جدید زرعی طریقوں کے فروغ کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ انہوں نے کہا کہ کیلے کے ساتھ مرچ کی انٹرکراپنگ نہ صرف زمین کی کارکردگی میں اضافہ کرے گی بلکہ کاشتکاروں کو مختصر عرصے میں اضافی آمدنی حاصل کرنے میں بھی مدد دے گی۔








