پشاور۔ 16 اپریل (اے پی پی):موسم گرما قریب آتے ہی پاکستان بھر سے لوگ آزاد کشمیر کی ٹھنڈی اور دلکش وادیوں کی سیر کےلیے تیاریاں کر رہے ہیں جہاں کی خوبصورت آبشار، برفانی جھیلیں اور صنوبر سے ڈھکے پہاڑ گرمی سے نجات فراہم کرتے ہیں تاہم اس سال بے چینی کا ایک بڑھتا ہوا احساس آزاد کشمیر میں آبی سیاحت کو کھونے کا خطرہ پیدا کر رہا ہے جس کی …
سندھ طاس معاہدے کی بھارتی خلاف ورزیاں، آزاد کشمیر میں آبی سیاحت متاثر ہونے کا خدشہ

مزید خبریں
پشاور۔ 16 اپریل (اے پی پی):موسم گرما قریب آتے ہی پاکستان بھر سے لوگ آزاد کشمیر کی ٹھنڈی اور دلکش وادیوں کی سیر کےلیے تیاریاں کر رہے ہیں جہاں کی خوبصورت آبشار، برفانی جھیلیں اور صنوبر سے ڈھکے پہاڑ گرمی سے نجات فراہم کرتے ہیں تاہم اس سال بے چینی کا ایک بڑھتا ہوا احساس آزاد کشمیر میں آبی سیاحت کو کھونے کا خطرہ پیدا کر رہا ہے جس کی وجہ گزشتہ سال اپریل میں بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو غیر قانونی طور پر معطل رکھنا ہے۔سندھ طاس معاہدے کو معطل رکھنے کے بھارت کے غیر قانونی اقدام پر پائے جانے والے خدشات نے نہ صرف پالیسی سازوں اور ماہرین بلکہ عام سیاحوں اور ان مقامی کمیونٹیز میں بھی خوف پیدا کر دیا ہے جن کی زندگی پانی کے گرد گھومتی ہے۔ پشاور سے تعلق رکھنے والے لیکچرر احتشام قیصر جیسے لوگوں کےلیے آزاد کشمیر کا سفر محض ایک چھٹی نہیں بلکہ آزاد کشمیر کے دلکش آبشاروں سے لطف اندوز ہونے اور اس کی شاندار جھیلوں کی سیر کرنے کا ایک خوبصورت معمول ہے۔وہ ایک ہفتے کے سفر کےلیے پیکنگ کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ہر موسم گرما میں اپنے خاندان کے ساتھ آزاد کشمیر میں نیلم اور راولاکوٹ کی مسحور کن جھیلوں اور آبشاروں کی سیر کےلیے سفر کرتے ہیں اور اس کا مقصد خوشی، سکون اور فطرت سے دوبارہ جڑنا ہے۔ ان کا سفری پروگرام کشمیر کی قدرتی خوبصورتی اور اس کے شفاف پانیوں کےلیے ایک محبت نامے کی مانند ہے۔ وہ جن علاقوں کی سیر کرتے ہیں ان میں رتی گلی جھیل، بنجوسہ جھیل کے پرسکون ساحل اور چٹا کٹھا جھیل کا مشکل ٹریک شامل ہیں۔ یہ مقامات، پٹلیاں اور زلزل جھیل جیسے کم معروف خوبصورت مقامات کے ساتھ مل کر ہر موسم گرما میں ہزاروں سیاحوں اور واٹر سپورٹس کے شوقین افراد کو اپنی طرف کھینچتے ہیں۔ تاہم اس جوش و خروش کے ساتھ ساتھ بھارت کی جانب سے حال ہی میں دریائے چناب میں پانی کے بہاؤ میں کمی کی وجہ سے ایک خاموش تشویش چھپی ہوئی ہے۔ احتشام کا کہنا ہے کہ اگر مغربی دریاؤں میں پانی کا بہاؤ کم ہو گیا تو یہ جگہیں اپنی کشش کھو سکتی ہیں۔ جب پانی نہیں ہوگا تو سیاحت نہیں ہوگی، جس کا مطلب دیہی علاقوں میں غربت اور بے روزگاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس کی حمایت یافتہ ہندوتوا حکومت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیوں کی وجہ سے فطرت، خوراک اور پانی خطرے میں ہیں۔ آزاد کشمیر کی سیاحت کی صنعت اس کی آبی گزرگاہوں سے جڑی ہوئی ہے۔ نیلم اور ہٹیاں بالا کی سرسبز وادیوں میں جام گڑھ اور چھم جیسے آبشار نہ صرف پرکشش مناظر ہیں بلکہ وہ مقامی معیشتوں کےلیے شہ رگ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ سیاح ان مقامات پر پکنک، ٹریکنگ، واٹر رافٹنگ اور ایڈونچر سپورٹس کےلیے جوق در جوق آتے ہیں، جس سے چھوٹے کاروبار، گائیڈز، ٹرانسپورٹ آپریٹرز اور ہوٹل مالکان کو اپنے خاندانوں کےلیے روزی کمانے میں مدد ملتی ہے۔ احتشام پچھلے سال جام گڑھ آبشار جو بلند و بالا دیودار کے درختوں اور برف سے ڈھکی چوٹیوں میں گھرا ہوا ہے، کی سیر کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ اس سفر نے ان کے خاندان کی خوشیوں میں اضافہ کر دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ پورا راستہ جنگل سے ڈھکا ہوا ہے، آزاد کشمیر میں جھیلوں اور آبشاروں کے مناظر دل چھو لینے والے ہیں۔ تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مغربی دریاؤں یعنی سندھ، چناب اور جہلم میں پانی کے کم بہاؤ سے ایسے مقامات خشک ہو سکتے ہیں، جس سے حیاتیاتی تنوع، آبی وسائل کو نقصان پہنچ سکتا ہے اور موسمیاتی تبدیلیوں اور گلوبل وارمنگ کے درمیان نازک ماحولیاتی نظام غیر مستحکم ہو سکتا ہے جس نے ہمالیہ کے خطے میں گلیشیئرز کے پگھلنے کے عمل کو تیز کر دیا ہے۔ قدرتی خوبصورتی، پانی اور پہاڑی کھیلوں کے علاوہ، یہاں انسانی زندگی بھی خطرے سے دوچار ہے۔آزاد کشمیر میں ہزاروں خاندان اپنی آمدنی کےلیے سیاحت پر انحصار کرتے ہیں۔ سڑک کے کنارے چائے فروشوں سے لے کر ٹریکنگ گائیڈز اور گھڑ سواروں سے لے کر فوٹوگرافروں تک، سیاح اور پانی کا بہاؤ ہی اس خطے کو زندہ رکھتا ہے۔ احتشام جو پہلے تین بار آزاد کشمیر کا سفر کر چکے ہیں، کہتے ہیں کہ سیاحت کا براہ راست تعلق آزاد کشمیر میں پانی کے بہاؤ سے ہے جو بہت سے لوگوں کےلیے روزگار پیدا کرنے میں مدد دیتا ہے۔اگر جھیلیں سکھ گئیں یا آبشار ختم ہوگئے تو لوگ کاروبار سے محروم ہو جائیں گے اور غربت بڑھے گی۔ دریں اثنا قانونی ماہر نعمان بخاری کا کہنا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ طویل عرصے سے پاکستان اور بھارت کے درمیان تعاون کی ایک نادر مثال کے طور پر کام کر رہا ہے اور کوئی بھی ریاست یکطرفہ طور پر اسے معطل یا التوا میں نہیں رکھ سکتی۔ انہوں نے کہا کہ ورلڈ بینک کے تعاون سے 1960 میں طے پانے والا سندھ طاس معاہدہ جنگوں اور سیاسی تناؤ کے باوجود برقرار رہا ہے۔ اسے کمزور کرنا نہ صرف قانونی اصولوں بلکہ علاقائی استحکام کےلیے بھی خطرہ ہے۔عالمی عدالت برائے ثالثی کے فیصلے کے بعد بھارت تمام قانونی بنیادیں کھو چکا ہے اور وہ مزید سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے پر پاکستان کا موقف عالمی عدالت نے قبول کر لیا ہے جس نے قرار دیا ہے کہ یہ تاریخی معاہدہ اب بھی برقرار ہے۔ ماہرین اور تجزیہ نگار پانی کے مسئلے کو سیاحت سے بھی آگے کا مسئلہ سمجھتے ہیں۔یونیورسٹی آف پشاور کے پروفیسر ڈاکٹر زاہد انور نے اس صورتحال کو ایک سنگین چیلنج قرار دیا جس کے خطے کےلیے خطرناک نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بھارت سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیاں کر رہا ہے جس کے علاقائی استحکام کےلیے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے گزشتہ سال 30 اپریل سے 21 مئی اور 7 دسمبر سے 15 دسمبر تک دریائے چناب کے بہاؤ میں غیر معمولی اور اچانک تبدیلیوں کا حوالہ دیا۔انہوں نے کہا کہ پانی کے بہاؤ میں یہ تبدیلیاں پاکستان کےلیے انتہائی تشویش کا باعث ہیں کیونکہ یہ بھارت کی جانب سے دریائے چناب میں پانی کے یکطرفہ اخراج کی نشاندہی کرتی ہیں۔ بھارت نے یہ پانی پاکستان کو کسی پیشگی اطلاع یا ڈیٹا اور معلومات کے اشتراک کے بغیر چھوڑا۔ بھارت کی جانب سے یہ گھناؤنی حرکت پاکستان کے زرعی سائیکل، خاص طور پر گندم کی فصل کے نازک وقت پر ہوتی ہے اور یہ براہ راست شہریوں کی زندگیوں اور روزگار کے ساتھ ساتھ خوراک اور معاشی تحفظ کو خطرے میں ڈالتی ہے۔انہوں نے کہا کہ پانی پاکستان کی شہ رگ ہے۔ اس میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ زراعت، غذائی تحفظ اور لاکھوں لوگوں کی روزمرہ کی زندگیوں کو متاثر کرتی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر معاہدے کا ڈھانچہ کمزور ہوتا ہے تو ماحولیاتی انحطاط، پانی کی قلت، پانی کی آلودگی اور یہاں تک کہ سیلاب کے خطرات بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔ سیاحوں کےلیے ان علاقوں میں فی الحال آبشار بھی گرتے ہیں اور جھیلیں موسم گرما کی سورج کی روشنی میں اب بھی چمک رہی ہیں لیکن ان خوبصورت اور دلکش علاقوں کا مستقبل پانی سے جڑا ہے۔ سیاح امید رکھتے ہیں کہ آزاد کشمیر کا پانی بہتا رہے، جو اس کی خوبصورتی اور اس سے جڑی زندگیوں دونوں کو برقرار رکھے








