سندھ میں موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے چیلنجز سے نمٹنے، کسانوں کی معاونت اور غذائی تحفظ یقینی بنانے کے لیے نوجوان زرعی گریجویٹس کا کردار انتہائی اہم ہے۔
سندھ میں موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجز، نوجوان زرعی گریجویٹس کا کردار اہم ہے، ایف اے او اور زرعی یونیورسٹی کا اتفاق

مزید خبریں
حیدرآباد۔ 25 اگست (اے پی پی):سندھ میں موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے چیلنجز سے نمٹنے، کسانوں کی معاونت اور غذائی تحفظ یقینی بنانے کے لیے نوجوان زرعی گریجویٹس کا کردار انتہائی اہم ہے۔ اس سلسلے میں سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈوجام اور اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت (ایف اے او) پاکستان نے طلبہ و فیکلٹی کے لیے تعلیم، تحقیق، انٹرن شپ، پیشہ ورانہ تربیت اور استعدادِ کار میں اضافے کے مواقع بڑھانے کے لیے باہمی تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا ہے۔ اس ضمن میں ایف اے او پاکستان کے وفد نے، جس کی قیادت آفیسر اِن چارج جیمز رابرٹ اوکوتھ کر رہے تھے۔سندھ زرعی یونیورسٹی کے وائس چانسلر انجنیئر پروفیسر ڈاکٹر الطاف علی سیال سے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران تعلیم، تحقیق، طلبہ کی انٹرن شپ، پیشہ ورانہ تربیت اور استعدادِ کار میں اضافے سمیت باہمی تعاون کے مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وفد میں ماریہ عثمان، اے ایف اے او آر ایڈمنسٹریشن، پیڈرو گرازون، پروجیکٹ منیجر آر اے ایف اے اور ڈاکٹر اشفاق احمد ناہیون، صوبائی کوآرڈینیٹر جی سی ایف پروجیکٹ شامل تھے۔ اس موقع پر ایف اے او پاکستان کے آفیسر اِن چارج جیمز رابرٹ اوکوتھ نے سندھ زرعی یونیورسٹی کے ساتھ ادارے کے ماضی کے کامیاب تعاون کا ذکر کرتے ہوئے مستقبل میں مشترکہ منصوبوں کو مزید وسعت دینے میں دلچسپی کا اظہار کیا۔
انہوں نے موسمیاتی تبدیلی کے باعث سندھ کے کسانوں کو درپیش مسائل کے حل کے لیے ایس اے یو کے طلبہ، زرعی ماہرین اور ایف اے او کے درمیان مشترکہ کردار کی اہمیت اجاگر کی۔ انہوں نے کہا کہ ایف اے او مقامی برادریوں اور اداروں کے ساتھ مل کر بالخصوص سندھ کے پسماندہ علاقوں میں زرعی ترقی، کسانوں کی معاونت اور پائیدار و فائدہ مند زرعی طریقوں کے فروغ کے لیے کام کرنا چاہتا ہے۔ وائس چانسلر ڈاکٹر الطاف علی سیال نے زراعت کے شعبے میں ایف اے او پاکستان کے مسلسل تعاون اور خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ سندھ سمیت ملک کے مختلف علاقوں کو موسمیاتی تبدیلی کے سنگین اثرات کا سامنا ہے، ایسی صورتحال میں زرعی ماہرین، تعلیمی اداروں اور تحقیقی مراکز کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے کہ وہ کسانوں کو عملی اور سائنسی بنیادوں پر معاونت فراہم کریں۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث زراعت، پانی کی دستیابی اور کسانوں کے معاش پر نمایاں اثرات مرتب ہو رہے ہیں، اس لیے زرعی ماہرین کو کسانوں اور متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر ان مسائل کے عملی اور پائیدار حل تلاش کرنا ہوں گے۔ ملاقات کے موقع پر سندھ زرعی یونیورسٹی کے رجسٹرار غلام محی الدین قریشی بھی موجود تھے۔








