سوات میں اطالوی آثار قدیمہ مشن کی 70ویں سالگرہ: وفاقی وزیر قومی ورثہ اور ثقافت اورنگزیب خان کھچی کی تقریب میں شرکت، پاک اٹلی تعاون پر زور

روم ۔14دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کھچی نے سوات میں اطالوی آثارِ قدیمہ مشن کی 70ویں سالگرہ کے موقع پر منعقدہ تقریب میں بطور مہمانِ خصوصی اور کلیدی مقرر شرکت کی۔یہاں جاری بیان کے مطابق وفاقی وزیر اس وقت اٹلی کے سرکاری دورے پر ہیں جہاں وہ آئی سی سی آر او ایم کی جنرل اسمبلی میں پاکستان کے وفد کی قیادت کر …

روم ۔14دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کھچی نے سوات میں اطالوی آثارِ قدیمہ مشن کی 70ویں سالگرہ کے موقع پر منعقدہ تقریب میں بطور مہمانِ خصوصی اور کلیدی مقرر شرکت کی۔یہاں جاری بیان کے مطابق وفاقی وزیر اس وقت اٹلی کے سرکاری دورے پر ہیں جہاں وہ آئی سی سی آر او ایم کی جنرل اسمبلی میں پاکستان کے وفد کی قیادت کر رہے ہیں۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے پاکستان اور اٹلی کے درمیان آثارِ قدیمہ اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کے حوالے سے دیرینہ شراکت داری کو سراہا اور اسے مشترکہ تاریخی ورثے کے تحفظ کے لیے نہایت اہم قرار دیا۔ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعاون، تعلیمی تبادلوں اور ادارہ جاتی روابط کو مزید فروغ دینے کے لیے جاری اقدامات پر بھی روشنی ڈالی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان آثارِ قدیمہ کی تحقیق، تحفظ اور تعلیم کے فروغ کے لیے پُرعزم ہے اور اس شعبے میں اٹلی کے ساتھ تعاون کو وسعت دینے کا خواہاں ہے۔

یہ تقریب اٹلی کی انٹرنیشنل ایسوسی ایشن فار میڈیٹیرینین اینڈ اورینٹل اسٹڈیز کے زیرِ اہتمام منعقد کی گئی، جس میں اطالوی وزارتِ خارجہ کے تحت اطالوی ایجنسی برائے ترقیاتی تعاون اور یونیورسٹی آف وینس نے تعاون فراہم کیا۔تقریب میں پاکستان میں قائم اطالوی آثارِ قدیمہ مشن کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا، جس کی بنیاد ممتاز اطالوی ماہرِ آثارِ قدیمہ جوسیپے ٹوچی نے 1955 میں رکھی تھی۔

اس موقع پر پاکستان میں مختلف آثارِ قدیمہ کے مقامات پر ہونے والے تکنیکی اور علمی تعاون کو اجاگر کیا گیا۔تقریبات کے دوران چار سیشنز منعقد ہوئے جن میں پاکستان میں مشن کی تاریخ، خیبر پختونخوا حکومت کے ساتھ جاری تعاون اور مستقبل کے منصوبوں پر گفتگو کی گئی۔ ان منصوبوں میں آثار نباتات، کتبوں کے مطالعے اور جیو آرکیالوجی شامل ہیں۔

اس کے علاوہ باریکوٹ، بٹکارا اور سیدو شریف جیسے اہم آثارِ قدیمہ کے مقامات پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔تقریب کی نظامت معروف ماہرِ آثارِ قدیمہ پروفیسر لوکا ماریا اولیویری (ستارۂ امتیاز) نے کی، جو یونیورسٹی آف وینس میں پی ایچ ڈی کے طلبہ کو آثار قدیمہ پڑھاتے ہیں اور گزشتہ 38 برسوں سے پاکستان میں تحقیقی سرگرمیوں سے وابستہ ہیں۔تقریب میں پاکستان کے سفارت خانے، روم کے حکام، اطالوی ماہرین آثار قدیمہ، محققین اور ثقافتی اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی، جس سے پاک اٹلی ثقافتی اور علمی تعاون کے مضبوط تعلقات کا اعادہ کیا گیا۔

مزید خبریں