وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کی نئے صوبوں کے حوالے سے بیان کی وضاحت
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کی نئے صوبوں کے حوالے سے بیان کی وضاحت

مزید خبریں
اسلام آباد۔5ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے کہ قومی ترقی کے عمل کو تیز کرنے کے لئے ہمیں انسانی وسائل اور سماجی شعبوں میں نہایت تیز رفتاری سے اپنی کمزوری پہ قابو پانا ہے۔
ان شعبوں میں نمایاں بہتری کے بغیر ہماری ترقی کے اہداف حاصل نہیں ہو سکتے۔ وزارت منصوبہ بندی کی جانب سے جاری وضاحتی بیان میں وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ گزشتہ پندرہ برسوں کے دوران پاکستان کے بیشتر سماجی اور انسانی وسائل کے اشارئیے مسلسل تنزلی کا شکار ہیں جن میں نمایاں بہتری کے بغیر ہماری ترقی کے اہداف حاصل نہیں ہو سکتے۔ہماری سماجی شعبہ میں ناقص کارکردگی کی بڑی وجہ 18ویں ترمیم کے بعد نچلی سطح تک اختیارات اور وسائل کی منتقلی نہ ہونا اور صوبائی سطح پہ اختیارات کی مرکزیت ہے قومی ترقی کے عمل کو تیز کرنے کے لئے ہمیں انسانی وسائل اور سماجی شعبوں میں نہایت تیز رفتاری سے اپنی کمزوری پہ قابو پانا ہے۔ اس حوالے سے ملک کے پاس دو آپشن ہیں پہلا آپشن 160 اضلاع میں با اختیار مقامی حکومتیں قائم کرنا جنہیں صوبائی فنانس کمیشن سے براہ راست وسائل فراہم ہوں یا پھر اتفاق رائے سے 12 یا 15 نئے صوبوں کا قیام ہے چونکہ 26 کروڑ کی آبادی سے موجودہ انتظامی ڈھانچہ اوور لوڈ کا شکار ہو چکا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ 160 ضلعی حکومتیں بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ اختیارات زیادہ سے زیادہ نچلی سطح پر منتقل کیے جا سکیں اور پسماندہ علاقوں میں ترقی ممکن ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی شعبہ میں نتائج کا انحصار منصوبوں پہ مؤثر عملدرآمد اور ان کی مقامی نگرانی پہ ہوتا ہے، دنیا بھر میں اختیارات عوام کی دہلیز پہ منتقل کئے جا رہے ہیں تاکہ سروس ڈیلیوری لوگوں کے قریب لے جائی جا سکے جبکہ ہمارے ہاں اس سمت میں کوئی مؤثر کاروائی نہیں ہوئی۔احسن اقبال نے واضح کیا کہ جب تک اختیارات نچلی سطح تک منتقل نہیں کیے جاتے، عوامی مسائل کا پائیدار حل ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی انتظامی ڈھانچہ کی کامیابی کا انحصار بدلتے ہوئے حالات کے ساتھ اس کو خود تبدیل اور اصلاح کرنے میں ہوتا ہے۔ جو نظام جامد رہتا ہے وہ بکھر جاتا ہے۔ ملک میں انتظامی ڈھانچہ کی بحث سیاست مفاد سے بالاتر ہو کر ملک کی ترقی کے تقاضوں کی روشنی میں ہونی چائیے اور خود سیاستدانوں کو اسے آگے بڑھانا چائیے۔







