پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی کے چیئرمین و وزیرِ مملکت برائے کرپٹو و بلاک چین بلال بن ثاقب نے زیر تربیت سول سرونٹس پر زور دیا کہ وہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کو بہتر طرزِ حکمرانی، عوامی خدمات کی موثر فراہمی اور ریاستی صلاحیت کو مضبوط بنانے کے لیے استعمال کریں
سول سرونٹس اے آئی کو بہتر طرزِ حکمرانی، عوامی خدمات کی موثر فراہمی اور ریاستی صلاحیت کو مضبوط بنانے کے لیے استعمال کریں، وزیر مملکت بلال بن ثاقب

مزید خبریں
لاہور۔18جون (اے پی پی):پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی کے چیئرمین و وزیرِ مملکت برائے کرپٹو و بلاک چین بلال بن ثاقب نے زیر تربیت سول سرونٹس پر زور دیا کہ وہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کو بہتر طرزِ حکمرانی، عوامی خدمات کی موثر فراہمی اور ریاستی صلاحیت کو مضبوط بنانے کے لیے استعمال کریں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے سول سروسز اکیڈمی (سی ایس اے) لاہور میں مصنوعی ذہانت کے ذریعے گورننس کو مضبوط بنانے کے موضوع پر منعقدہ 4روزہ ورکشاپ کی اختتامی تقریب میں اسناد تقسیم کرنے کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ اے آئی اب مستقبل کی ٹیکنالوجی نہیں رہی بلکہ ایک عملی ذریعہ بن چکی ہے جسے دنیا بھر میں لاکھوں افراد استعمال کر رہے ہیں، اور حکومت کو بھی شہریوں کی بہتر خدمت کے لیے اس سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے نوجوان افسران ایسے دور میں سرکاری خدمات میں قدم رکھ رہے ہیں جب ٹیکنالوجی ریاستی نظام اور شہریوں کے ساتھ اس کے تعلقات کو ازسرِنو تشکیل دینے کا بے مثال موقع فراہم کر رہی ہے۔بلال بن ثاقب نے زور دیا کہ دنیا بھر کی حکومتیں فیصلہ سازی کو بہتر بنانے، چیلنجز کی پیش گوئی کرنے اور خدمات کی موثر فراہمی کے لیے AIپر مبنی حل استعمال کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں بھی اس سے استفادہ حاصل کرنا چاہئے۔وزیر مملکت نے کہا کہ دنیا کی پرائیوٹ کمپنیاں اربوں ڈالرز ٹیکنالوجی کے استعمال سے حاصل کررہی ہے اور ہمیں بھی یہی کرنا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ دنیا کو ٹیکنالوجی نے تبدیل کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب اپنی ذاتی زندگیوں میں اے آئی سے استفادہ حاصل کررہے ہیں پھر کیوں نہ 25کروڑ عوام کی سہولت کیلئے اے آئی سے استفادہ حاصل کیا جائے۔وزیر مملکت نے کہا کہ AIڈیزاسٹر مینجمنٹ، صحت، تعلیم، خریداری (پروکیورمنٹ) اور ریونیو انتظامیہ سمیت مختلف شعبوں میں نمونوں کی نشاندہی، خطرات کی پیش گوئی اور آپریشنل کارکردگی بہتر بنانے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔پاکستان کی ڈیجیٹل گورننس میں پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کے ای گورنمنٹ ڈویلپمنٹ انڈیکس 2024میں پاکستان کی درجہ بندی 2022میں 150ویں نمبر سے بہتر ہو کر 136ویں نمبر پر آگئی ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ یہ درجہ بندی مزید اصلاحات اور جدت کی ضرورت کو بھی اجاگر کرتی ہے۔انہوں نے سول سرونٹس پر زور دیا کہ وہ AI، ڈیٹا اور سائبر سیکیورٹی کے اصولوں سے آگاہی حاصل کریں اور یہ سمجھیں کہ ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کو حکومتی نظام میں ذمہ داری کے ساتھ کیسے استعمال کیا جا سکتا ہے۔انہوں نے گورننس اور عوامی شعبے کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے AI سے چلنے والے ڈیش بورڈز، ابتدائی وارننگ سسٹمز، شہری خدمات کے پلیٹ فارمز اور فیصلہ سازی میں معاون آلات کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی بڑی نوجوان آبادی ایک قیمتی قومی سرمایہ ہے اور موثر طرزِ حکمرانی، ٹیکنالوجی کا فروغ اور مضبوط ادارے ہی ملک کی صلاحیتوں کو پائیدار ترقی میں تبدیل کر سکتے ہیں۔تقریب میں سول سروسز اکیڈمی کے ڈائریکٹر جنرل فرحان عزیز خواجہ، کامن ٹریننگ پروگرام ( سی ٹی پی ) کے ڈائریکٹر سید شبیر زیدی، پروگرام آفیسر عارف الاسلام اور دیگر حکام بھی موجود تھے۔تقریب کے اختتام پر وزیرِ مملکت نے 54ویں کامن ٹریننگ پروگرام کے شرکا میں اسناد اور یادگاری شیلڈز تقسیم کیں جس میں 117 مرد جبکہ 100 خواتین آفیسرز شامل تھی۔








