سول سنڈیمن ہسپتال کوئٹہ میں خاتون کے ہاں مبینہ جڑواں بچوں کی پیدائش کے معاملے کی انکوائری مکمل کرلی گئی ہے۔ انکوائری کمیٹی نے قرار دیا ہے کہ دستیاب طبی ریکارڈ، ڈاکٹروں کے بیانات اور ریڈیالوجی ڈیپارٹمنٹ کی تکنیکی رپورٹ سے صرف ایک بچے کی پیدائش ثابت ہوتی ہے
سول سنڈیمن ہستال میں جڑواں بچوں کی پیدائش کا دعویٰ ثابت نہ ہوسکا، انکوائری رپورٹ
کوئٹہ۔ 09 ستمبر (اے پی پی):سول سنڈیمن ہسپتال کوئٹہ میں خاتون کے ہاں مبینہ جڑواں بچوں کی پیدائش کے معاملے کی انکوائری مکمل کرلی گئی ہے۔ انکوائری کمیٹی نے قرار دیا ہے کہ دستیاب طبی ریکارڈ، ڈاکٹروں کے بیانات اور ریڈیالوجی ڈیپارٹمنٹ کی تکنیکی رپورٹ سے صرف ایک بچے کی پیدائش ثابت ہوتی ہے۔انکوائری رپورٹ کے مطابق کمیٹی نے معاملے کی تحقیقات کے دوران متعلقہ ڈاکٹروں کے بیانات، طبی و کلینیکل ریکارڈ اور آپریشن سے متعلق دستاویزات کا جائزہ لیا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خاتون کا سیزیرین سیکشن ہوا اور آپریشن کے دوران صرف ایک بچہ پیدا ہوا، جبکہ دوسرے بچے کی پیدائش کے حوالے سے کمیٹی کے سامنے کوئی ثبوت پیش نہیں کیا جاسکا۔انکوائری کمیٹی کے مطابق سابقہ الٹراسائونڈ رپورٹ میں جڑواں حمل کا ذکر موجود تھا، جس کی تکنیکی وضاحت کے لیے رپورٹ ریڈیالوجی ڈیپارٹمنٹ کو بھجوائی گئی۔ریڈیالوجی ڈیپارٹمنٹ نے 7 ستمبر 2026 کو اپنی تکنیکی رائے جاری کی، جسے انکوائری رپورٹ کا حصہ بنایا گیا ہے۔
کمیٹی نے ریڈیالوجی ڈیپارٹمنٹ کی رائے اور مریضہ کے سابقہ طبی ریکارڈ کی روشنی میں قرار دیا کہ الٹراسائونڈ میں جڑواں حمل کا حوالہ غیر ارادی انسانی/رپورٹنگ غلطی معلوم ہوتا ہے۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ مریضہ کے سابقہ دستیاب طبی ریکارڈ میں بھی سنگلٹن پریگننسی درج تھی، جو موجودہ ریکارڈ سے مطابقت رکھتا ہے۔انکوائری کمیٹی نے قرار دیا کہ جڑواں بچوں کی پیدائش سے متعلق الزام یا ابہام انکوائری کے دوران سامنے آنے والے شواہد سے ثابت نہیں ہوا، جبکہ کسی دوسرے بچے کی پیدائش کا بھی کوئی ثبوت نہیں ملا۔کمیٹی نے اپنی رپورٹ ریڈیالوجی ڈیپارٹمنٹ کی رپورٹ اور متعلقہ انکوائری ریکارڈ کے ہمراہ سول سنڈیمن اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کو مزید ضروری کارروائی اور مناسب فیصلے کے لیے بھجوا دی ہے۔رپورٹ کے مطابق بچے کی پیدائش کے دوران Bilateral Tubal Ligation (BTL) بھی کی گئی، جس کے لیے تحریری رضامندی حاصل کی گئی تھی جبکہ ڈیلیوری کے بعد BTL سے قبل مریضہ کی رضامندی کی زبانی طور پر بھی دوبارہ تصدیق کی گئی تھی۔








