اقوام متحدہ۔20جنوری (اے پی پی):اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ سوڈان کی صورتحال کے باعث رواں سال وہاں 80 لاکھ سے زیادہ افراد کو خوراک کی ضرورت ہوگی۔ العربیہ اردو کے مطابق اقوام متحدہ اور اس کے شراکت داروں نے سوڈان میں غذائی خدمات میں پیدا ہونے والے بڑے بحران کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بحران جنگ، نقل مکانی اور صحت و خوراک کی خدمات …
سوڈان میں رواں سال 5 سال سے کم عمر کے 50 لاکھ بچوں سمیت 80 لاکھ افراد کو خوراک کی ضرورت ہوگی، اقوام متحدہ

مزید خبریں
اقوام متحدہ۔20جنوری (اے پی پی):اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ سوڈان کی صورتحال کے باعث رواں سال وہاں 80 لاکھ سے زیادہ افراد کو خوراک کی ضرورت ہوگی۔ العربیہ اردو کے مطابق اقوام متحدہ اور اس کے شراکت داروں نے سوڈان میں غذائی خدمات میں پیدا ہونے والے بڑے بحران کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بحران جنگ، نقل مکانی اور صحت و خوراک کی خدمات میں کمی کی وجہ سے مسلسل بڑھ رہا ہے۔زمینی حالات 2026 کے دوران صورتحال مزید بگڑنے کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کے دفتر برائے ہم آہنگیِ انسانی امور (او سی ایچ اے )نے کہا ہے کہ 2026 میں 84 لاکھ سے زائد افراد کو غذائی امداد کی ضرورت ہوگی جن میں پانچ سال سے کم عمر کے تقریباً 50 لاکھ بچے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ 34 لاکھ سے زائد حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین صحت کی سہولیات کی کمی اور غذائی قلت کا شکار ہوں گی۔ او سی ایچ اے کی رپورٹ میں پیشنگوئی کی گئی ہے کہ سوڈان بھر میں 42 لاکھ بچے اور خواتین شدید غذائی قلت کا شکار ہوں گے جن میں پانچ سال سے کم عمر کے 8 لاکھ 24 ہزار سے زیادہ بچے انتہائی شدید غذائی قلت کا شکار ہو سکتے ہیں۔ امدادی کاموں کی نگرانی اور تشخیص کے معیاری طریقہ کار کے تحت کیے گئے 61 میں سے 31 سروے کے نتائج رواں سال کے دوران شدید غذائی قلت کے پھیلاؤ کی تصدیق کر رہے ہیں۔
عالمی ادارہ صحت نے بتایا ہے کہ ان میں سے ایک سروے نے صورتحال کے قحط کے دہانے پر پہنچنے کی بھی نشاندہی کی ہے۔ اس سروے کے مطابق کل آبادی کا تقریباً 34.2 فیصد حصہ قحط کے دہانے پر پہنچ سکتا ہے۔ سوڈان میں کردفان اور دارفور کے علاقوں میں فوجی دباؤ بڑھ رہا ہے۔ اقوام متحدہ نے رواں ماہ کے اوائل میں بتایا تھا کہ سڑکوں کی بندش اور رکاوٹوں کی وجہ سے کئی علاقوں میں خوراک، طبی امداد اور منڈیوں تک رسائی متاثر ہوئی ہے جن میں جنوبی کردفان کا دارالحکومت کادوقلی اور الدلنج شہر شامل ہیں۔ اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ ضرورت مندوں کی تعداد موجودہ تخمینوں سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے، خاص طور پر نئے بے گھر ہونے والوں اور محصور علاقوں میں پھنسے ہوئے لوگوں کے لئےصورتحال زیادہ سنگین ہے۔
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے سوڈان میں دونوں فریقوں کی جانب سے معاشرے کی عسکریت پسندی میں اضافے کے خلاف خبردار کرتے ہوئے اس خدشے کا اظہار کیا کہ کردفان کے شہروں میں بھی الفاشر جیسا منظرنامہ دہرایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے پورٹ سوڈان میں ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ جدید فوجی سازوسامان، خاص طور پر ڈرونز کے پھیلاؤ نے دونوں فریقین کی عسکری صلاحیتوں کو بڑھا دیا ہے۔ اس صورت حال میں دشمنی طویل ہو گئی ہے اور شہریوں کا بحران مزید گہرا ہو گیا ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ جنگی جرائم کے مرتکب افراد ، چاہے ان کا تعلق کسی بھی گروہ سے ہو، کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا دفتر ان خلاف ورزیوں کی دستاویزات تیار کر رہا ہے تاکہ احتساب کی راہ ہموار کی جا سکے۔واضح رہے کہ سوڈان میں کئی مہینوں سے ’’ریپڈ سپورٹ فورسز‘‘ اور ’’سوڈان پیپلز لبریشن موومنٹ‘‘ نے کادوقلی اور الدلنج کا سخت محاصرہ کر رکھا ہے۔ وہ توپ خانے اور ڈرونز سے بمباری جاری رکھے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے 8 لاکھ سے زائد افراد نقل مکانی کر چکے ہیں۔








