اسلام آباد۔7جنوری (اے پی پی):وزیرخزانہ کے مشیرخرم شہزادنے کہاہے کہ پاکستان سٹاک مارکیٹ میں ریکارڈتیزی سے ظاہرہورہاہے کہ کہ سرمایہ کار استحکام، اصلاحات، سرمایہ کاری کے تسلسل اور درمیانی مدت کے معاشی امکانات پر زیادہ اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں۔ بدھ کو سماجی رابطوں کی ویب سائیٹ ایکس پراپنے ایک پیغام میں انہوں نے کہ کہ مختلف سیاسی ادوار میں پاکستان سٹاک مارکیٹ کی کارکردگی سے واضح پیغام ملتا …
سٹاک مارکیٹ میں ریکارڈتیزی خوش آئند ہے،سرمایہ کار استحکام، اصلاحات، سرمایہ کاری کے تسلسل اور درمیانی مدت کے معاشی امکانات پر زیادہ اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں،مشیرخزانہ خرم شہزاد

مزید خبریں
اسلام آباد۔7جنوری (اے پی پی):وزیرخزانہ کے مشیرخرم شہزادنے کہاہے کہ پاکستان سٹاک مارکیٹ میں ریکارڈتیزی سے ظاہرہورہاہے کہ کہ سرمایہ کار استحکام، اصلاحات، سرمایہ کاری کے تسلسل اور درمیانی مدت کے معاشی امکانات پر زیادہ اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں۔ بدھ کو سماجی رابطوں کی ویب سائیٹ ایکس پراپنے ایک پیغام میں انہوں نے کہ کہ مختلف سیاسی ادوار میں پاکستان سٹاک مارکیٹ کی کارکردگی سے واضح پیغام ملتا ہے کہ مارکیٹس شور شرابے یا سیاسی نعروں کو نہیں بلکہ استحکام، اصلاحات کی رفتار اور قابلِ اعتبار پالیسی کی سمت کو انعام دیتی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ 2023سے لیکر2025تک کے ایس ای 100انڈیکس میں ریٹرن کی شرح امریکی ڈالرمیں 161فیصد اورپاکستانی کرنسی میں 190فیصد، 2019سے 2022تک امریکی ڈالرمیں 32فیصد اورپاکستانی کرنسی میں 11فیصد،2013سے 2017تک امریکی ڈالرمیں 95فیصد اورپاکستانی کرنسی میں 109فیصداور2008سے 2013تک امریکی ڈالرمیں 37فیصد اورپاکستانی کرنسی 73فیصدرہی۔
انہوں نے کہاکہ گزشتہ تین برس دو دہائیوں میں سب سے نمایاں کارکردگی کے حامل رہے ہیں، جن میں امریکی ڈالر کی بنیاد پر ریٹرن میں 161 فیصد اور پاکستانی روپے میں 190 فیصد اضافہ ہوا۔ یہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی تاریخ کی طویل ترین اور طاقتورادوارمیں سے ایک ہے، یہ کارکردگی سرمایہ کاروں کی جانب سے ایک واضح ری ریٹنگ کی عکاسی کررہی ہے کیونکہ مارکیٹ میں معاشی استحکام، اصلاحاتی عمل کی پیش رفت، مالیاتی اور بیرونی کھاتوں میں بہتری، آزاد بین الاقوامی توثیقات اور پائیدار ترقی و سرمایہ کاری کے نسبتاً واضح اور قابلِ عمل منظرنامے کو قیمتوں میں شامل کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہاکہ 2019–2022 کے دوران منافع کمزور اور غیر یقینی رہا جبکہ کووِڈ کو نکال کر یہ کارکردگی مزید کمزور تھی، جوغیریقینی پالیسی ، معاشی دباؤ اور بلند رسک پریمیم کی عکاسی کرتا ہے، بعض سابقہ ادوار میں اگرچہ مجموعی معاشی ترقی بظاہر بہتر نظر آتی تھی لیکن سرمایہ کار محتاط ہی رہے، کیونکہ مارکیٹس نازکو عارضی تیزی کی بجائے بالآخر پائیدار اور دیرپا ترقی کی قیمت ادا کرتی ہیں اور اعتماد اسی وقت بڑھتا ہے جب معاشی راستہ قابلِ اعتبار ہو۔ انہوں نے کہاکہ 2008سے 2012 اور2013سے 2017تک جیسے ادوار میں اگرچہ معقول منافع حاصل ہوا، لیکن ان میں سے کوئی بھی موجودہ دور کی وسعت، مدت، گہرائی و پھیلاؤ (لیکویڈیٹی، نئی لسٹنگز، سرمایہ کاروں کی بنیاد) یا تسلسل کا مقابلہ نہیں کر سکا۔مارکیٹ میں موجودہ تیزی محض انڈیکس میں اضافے تک محدود نہیں، بلکہ زیادہ وسیع اور مضبوط ہے، کیونکہ مارکیٹ کی گہرائی میں نمایاں بہتری آئی ہے،
سرمایہ کاروں کی تعداد میں 41 فیصد اضافہ ہوا ہے، گزشتہ 18 ماہ میں 135000 سے زائد نئے سرمایہ کار شامل ہوئے ہیں، طویل جمود کے بعد مجموعی سرمایہ کاروں کی تعداد 464000 سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ مجموعی عوامی مارکیٹ سرمایہ کاروں کی تعداد 1.1 ملین سے بڑھ گئی ہے، نئی لسٹنگز گزشتہ دہائی کی اوسط کے مقابلے میں دو گنا ہو چکی ہیں۔انہوں نے کہاکہ بنیادی معاشی عوامل نے بھی اس تیزی کو سہارا دیا ہے، جہاں کارپوریٹ آمدن گزشتہ 9 ماہ میں سالانہ بنیادوں پر تقریباً 14 فیصد بڑھی ہے،2026 میں 16 سے زائد نئی لسٹنگز متوقع ہیں، جس کے باعث یہ تیزی سرمایہ کاروں کی شمولیت، لیکویڈیٹی اور بڑھتی ہوئی مارکیٹ وسعت سے مزید مضبوط ہو رہی ہے یہ سب ایک مستحکم ہوتی ہوئی کیپیٹل مارکیٹ کی نمایاں علامات ہیں۔
انہوں نے کہاکہ اسی تناظر میں وزیرِ خزانہ کی بروقت کاوشوں کے تحت کیپیٹل مارکیٹ ڈویلپمنٹ کونسل کا قیام ایک نہایت مثبت اور درست سمت میں اٹھایا گیا قدم ہے، اس کا مقصد مصنوعات کی ترقی، ریگولیٹری سہولت، سرمایہ کاروں اور جاری کنندگان کے لیے مراعات، ٹیکس ہم آہنگی، اور مارکیٹ انفراسٹرکچر جیسے شعبوں میں اصلاحات کے ذریعے کیپیٹل مارکیٹ کو گہرا کرنا ہے، جو عالمی بہترین روایات پر مبنی ہوں، تاکہ پاکستان کی سرمایہ مارکیٹوں کی مکمل صلاحیت کو بروئے کار لایا جا سکے اور پائیدار معاشی ترقی میں ان کے کردار کو مضبوط کیا جا سکے۔
انہوں نے کہاکہ پاکستان اب خطے میں اورایم ایس سی آئی فرنٹیئر مارکیٹس کے دائرے میں دوسرا بہترین کارکردگی دکھانے والا ملک بن چکا ہے، جو اس بات کو تقویت دیتا ہے کہ یہ تیزی محض مقامی جوش نہیں بلکہ ایک نسبتی اور عالمی سطح پر ازسرِ نو جائزہ ہے۔ مارکیٹس سیاست کی پیش گوئی نہیں کرتیں، وہ اعتماد کی قیمت لگاتی ہیں۔ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ آج سرمایہ کار گزشتہ 20 برسوں میں کسی بھی مرحلے کے مقابلے میں استحکام، اصلاحات، سرمایہ کاری کے تسلسل اور درمیانی مدت کے معاشی امکانات پر زیادہ اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں۔








