سٹیٹ بینک نے ملک بھر کے تمام بینکوں کو بغیر قانونی وجہ ، مجاز اتھارٹی کی منظوری اور تصدیق کے اکاؤنٹس بلاک کرنے سے روک دیا، غیر ارادی اور احتیاطی پابندیوں سے بھی اکائونٹ ہولڈرز کو نقصان نہ پہنچانے کا حکم
سٹیٹ بینک نے ملک بھر کے تمام بینکوں کو بغیر قانونی وجہ ، مجاز اتھارٹی کی منظوری اور تصدیق کے اکاؤنٹس بلاک کرنے سے روک دیا، غیر ارادی اور احتیاطی پابندیوں سے بھی اکائونٹ ہولڈرز کو نقصان نہ پہنچانے کا حکم

مزید خبریں
اسلام آباد۔30جون (اے پی پی):اسلام آباد ہائیکورٹ کے احکامات کی روشنی میں سٹیٹ بینک آف پاکستان نے ملک بھر کے تمام بینکوں کو بغیر قانونی وجہ ، مجاز اتھارٹی کی منظوری اور تصدیق کے اکاؤنٹس بلاک کرنے سے روکتے ہوئے غیر ارادی اور احتیاطی پابندیوں سے بھی اکائونٹ ہولڈرز کو نقصان نہ پہنچانے کا حکم جاری کردیا۔
سٹیٹ بینک نے عدالتی حکم پر عملدرآمد رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرادی جس میں بتایاگیاہے کہ سٹیٹ بینک نے عدالتی حکم پر ملک بھر کے بینکوں کو نیا ہدایت نامہ جاری کردیاہے جس میں کہاگیاہے کہ یقینی بنایا جائے کسی بھی بینک اکاؤنٹ پر ڈیبٹ بلاک ، آپریشنل پابندی یا اکائونٹ فریزنگ کا اقدام صرف قانون کے مطابق ہو،کسی بھی شہری کے اکائونٹ کے حوالے سے قانونی اختیار اور مناسب تصدیق کے بعد ہی کاروائی ہو سکے گی۔
بینک ہدایات پر مکمل عملدرآمد کے لئے مناسب اندرونی میکانزم بھی وضع کر سکتے ہیں۔بینک اندرونی میکانزم سے یقینی بنائیں قانونی اختیار کے بغیر غیر ارادی یا احتیاطی پابندیوں سے اکاؤنٹ ہولڈرز کو غیر ضروری نقصان نہ پہنچے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے بغیر قانونی اختیار اور اتھارٹی کی منظوری سے بینک اکاؤنٹس بلاک کرنے سے روک رکھا ہے۔جسٹس ارباب محمد طاہر نے سٹیٹ بینک کو اندرونی میکانزم طے کرنے اور ہدایات جاری کرنے کی ہدایت تھی۔








