سٹیٹ بینک کی ڈالر کی شرح کو کیپ کرنے سے ترسیلات زر اور برآمدات میں 3 ارب ڈالر کے دعویٰ کی تردید

اسلام آباد۔29جنوری (اے پی پی):سٹیٹ بینک نے ڈالر کی شرح کو کیپ کرنے سے ترسیلات زر اور برآمدات میں 3 ارب ڈالر کے دعویٰ کی تردید کی ہے ۔ اتوارکویہاں جاری بیان میں سٹیٹ بینک کے ترجمان نے بتایا کہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں ڈالر کی قدرکوکیپ کرنے سے ترسیلات زر اور برآمدات میں 3 ارب ڈالر کے نقصان کابیانیہ سامنے آیا ہے جو متعدد عوامل کی وجہ سے …

اسلام آباد۔29جنوری (اے پی پی):سٹیٹ بینک نے ڈالر کی شرح کو کیپ کرنے سے ترسیلات زر اور برآمدات میں 3 ارب ڈالر کے دعویٰ کی تردید کی ہے ۔ اتوارکویہاں جاری بیان میں سٹیٹ بینک کے ترجمان نے بتایا کہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں ڈالر کی قدرکوکیپ کرنے سے ترسیلات زر اور برآمدات میں 3 ارب ڈالر کے نقصان کابیانیہ سامنے آیا ہے جو متعدد عوامل کی وجہ سے غلط اوربے بنیاد ہے ۔ترجمان نے بتایاکہ بین الاقوامی منڈیوں میں طلب میں کمی کی وجہ سے اشیا کی برآمدات کو مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ ہمارے بیشتر بڑے تجارتی شراکت دار مالیاتی وزری سختی کے دور سے گزر رہے ہیں ، یو ایس فیڈرل فنڈز کی شرح مارچ 2022 میں 0.25 فیصد سے بڑھ کر 4.5 فیصد ہو گئی ہے جس سے نمایاں عالمی زری سختی کی عکاسی ہورہی ہے ،

اس کے ساتھ ساتھ ترقی پذیرممالک میں افراط زرکی شرح میں نمایاں اضافہ ہواہے جس سے صارفین کی قوت خریدمتاثر ہورہی ہے ۔ تباہ کن سیلاب اور اس کے نتیجے میں رسد میں خلل جیسےاندرونی عوامل نے بھی ہماری برآمدات پر منفی اثرات مرتب کئے ہیں ۔ترجمان نے بتایا کہ اس پس منظر میں برآمدات میں کمی کو نسبتا ًمستحکم شرح مبادلہ سے جوڑنا مناسب نہیں ۔ ترجمان نے کہاکہ عید کے موقع پرسمندرپارپاکستانیوں کی جانب سے ترسیلات زرمیں عمومی اضافہ کی وجہ سے اپریل 2022 میں ترسیلات زر3.1 ارب ڈالر کی سطح پرپہنچے تھے جس کے بعد بیرون ممالک کام کرنے والے کارکنوں کی ترسیلات زر آہستہ آہستہ کم ہو رہی ہیں ۔

یہ کمی بنیادی طور پر عالمی اقتصادی سست روی کی وجہ سے ہے کیونکہ ترقی یافتہ ممالک میں افراط زر کی شرح زیادہ ہونے کی وجہ سے بیرون ملک زندگی گزارنے کی لاگت میں اضافہ ہوا ہے جس کے نتیجہ میں فاضل رقوم کم ہو گئی ہیں جنہیں ترسیلات زر کے طور پر وطن واپس بھیجا جا سکتا ہے۔ ترجمان نے بتایا کہ کوویڈ کے بعد بین الاقوامی سفری پابندیوں میں نرمی اور پاکستان کا سفر کرنے والے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے ایف سی وائی کیش ٹرانسفر کی واپسی جیسے اندرونی وبیرونی عوامل کی وجہ سے پاکستان کی برآمدات اورترسیلات زرمیں کمی آئی ہے اسے صرف شرح مبادلہ سے منسوب کرنا مناسب نہیں ہوگا۔