اسلام آباد۔14اکتوبر (اے پی پی):سپریم کورٹ کے پانچ رکنی آئینی بینچ نے سپر ٹیکس سے متعلق دائردرخواستوں پر سماعت کی۔ جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں قائم بینچ میں جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر اور دیگر معزز جج صاحبان شامل ہیں۔سماعت کے دوران مختلف کمپنیوں کے وکیل فروغ نسیم نے اپنے دلائل میں مؤقف اختیار کیا کہ انکم ٹیکس کا تصور آمدن میں اضافے کے ساتھ …
سپریم کورٹ ، سپر ٹیکس سے متعلق درخواستوں کی سماعت کل تک ملتوی

مزید خبریں
اسلام آباد۔14اکتوبر (اے پی پی):سپریم کورٹ کے پانچ رکنی آئینی بینچ نے سپر ٹیکس سے متعلق دائردرخواستوں پر سماعت کی۔ جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں قائم بینچ میں جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر اور دیگر معزز جج صاحبان شامل ہیں۔سماعت کے دوران مختلف کمپنیوں کے وکیل فروغ نسیم نے اپنے دلائل میں مؤقف اختیار کیا کہ انکم ٹیکس کا تصور آمدن میں اضافے کے ساتھ ٹیکس کے بڑھنے پر مبنی ہے،
ایف بی آر کا مائنڈ سیٹ بھی یہی ہے کہ آمدن کے حساب سے انکم ٹیکس نافذ کیا جائے۔فروغ نسیم نے وضاحت کی کہ 1979 کے آرڈیننس میں ٹیکس سے متعلق دو تصورات موجود تھے — تشخیصی ٹیکس اور انکم ٹیکس۔ تشخیصی ٹیکس سالانہ بنیاد پر ہوتا ہے جبکہ انکم ٹیکس گزشتہ سال کے اثاثوں کے موازنے میں نافذ کیا جاتا ہے۔
جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ ’’یہ کہاں لکھا ہے کہ تشخیصی ٹیکس کب نافذ ہوگا اور کب نہیں؟‘‘ جس پر فروغ نسیم نے جواب دیا کہ آرڈیننس میں واضح طور پر درج ہے کہ تشخیص ایک سال بعد ہوگی۔فروغ نسیم نے کہا کہ ’’آپ معزز جج صاحبان آئین کے محافظ ہیں، میں خود بھی پارلیمنٹ کا حصہ رہا ہوں اور وہاں بھی یہی مؤقف رکھا کہ پارلیمنٹ سپریم ہے لیکن سپریم کورٹ انصاف فراہم کرنے والا ادارہ ہے۔
‘‘جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ ’’مسئلہ یہ ہے کہ ہم کسی کے حق میں فیصلہ دیں تو لوگ خوش ہوتے ہیں، خلاف دیں تو ناخوش ہو جاتے ہیں۔‘‘ فروغ نسیم نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ ’’بشر ہیں نا، حق میں فیصلہ آئے تو خوش ہوتے ہیں، خلاف آئے تو برا کہتے ہیں۔
‘‘جسٹس محمد علی مظہر نے مزید پوچھا کہ ’’ٹیکس نافذ کرتے ہوئے آپ کس طرح کے انصاف کی توقع رکھتے ہیں؟‘‘ فروغ نسیم نے کہا کہ آئین کا آرٹیکل 10-اے قدرتی انصاف کے اصولوں کے برابر ہے اور اس سے مراد صرف سننے کا حق نہیں بلکہ منصفانہ فیصلہ بھی ہے۔بعد ازاں عدالت نے کیس کی مزید سماعت بدھ تک ملتوی کر دی۔








