سپریم کورٹ آف پاکستان میں بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی سے متعلق مختلف مقدمات کی سماعت

اسلام آباد۔18فروری (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان میں بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی سے متعلق مختلف مقدمات کی سماعت ہوئی جن میں ضمانت منسوخی کی درخواستیں، توشہ خانہ کیس میں فیصلہ معطلی کی اپیل، سائفر اپیل کیس اور ہتکِ عزت کیس میں اپیلیں شامل تھیں۔ بدھ کو جسٹس ہاشم خان کاکڑ کی سربراہی میں جسٹس صلاح الدین پنھور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل تین رکنی …

اسلام آباد۔18فروری (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان میں بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی سے متعلق مختلف مقدمات کی سماعت ہوئی جن میں ضمانت منسوخی کی درخواستیں، توشہ خانہ کیس میں فیصلہ معطلی کی اپیل، سائفر اپیل کیس اور ہتکِ عزت کیس میں اپیلیں شامل تھیں۔ بدھ کو جسٹس ہاشم خان کاکڑ کی سربراہی میں جسٹس صلاح الدین پنھور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل تین رکنی بینچ نے سماعت کی ۔سماعت کے دوران پنجاب حکومت نے زمین کے حصول میں اختیارات کے مبینہ ناجائز استعمال سے متعلق بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی ضمانت منسوخی کی تین درخواستیں واپس لے لیں۔ یہ مقدمات لاہور، اوکاڑہ اور ڈی جی خان میں درج تھے۔

عدالت نے درخواستیں واپس لینے کی بنیاد پر نمٹا دیں۔ اسی طرح پنجاب حکومت نے زمان پارک کے مقدمات میں ضمانت منسوخی کے خلاف دائر اپیلیں بھی واپس لے لیں جس پر عدالت نے وہ اپیلیں بھی نمٹا دیں۔بانی پی ٹی آئی کی توشہ خانہ کیس میں فیصلہ معطلی کی اپیل پر سماعت کے دوران ان کے وکیل لطیف کھوسہ نے مؤقف اختیار کیا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے توشہ خانہ کیس میں سزا معطل کی تھی لیکن فیصلہ معطل نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے الیکشن لڑنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ عدالت نے اس معاملے پر الیکشن کمیشن آف پاکستان کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیاجبکہ آئندہ سماعت کی تاریخ بعد میں مقرر کی جائے گی۔سائفر اپیل کیس کی سماعت کے دوران پراسیکیوٹر جنرل نے مؤقف اختیار کیا کہ تفصیلی فیصلہ جمع نہیں کرایا گیا، اس لیے مہلت دی جائے۔ بیرسٹر سلمان صفدر نے بھی عدالت کو آگاہ کیا کہ انہیں اس کیس میں نوٹس نہیں ہوا۔

عدالت نے قرار دیا کہ ابھی یہ طے ہونا باقی ہے کہ اپیل قابلِ سماعت ہے یا نہیں اور تفصیلی فیصلہ جمع کرانے کے لیے مہلت دیتے ہوئے کیس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا۔ہتکِ عزت کیس میں بانی پی ٹی آئی کی اپیلوں پر سماعت کے دوران بانی پی ٹی آئی کے وکیل میاں محمد حسین پیش ہوئے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ ہتکِ عزت کیس کا ٹرائل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ کرتی ہےتاہم یہاں ٹرائل ایڈیشنل سیشن کورٹ نے کیا، جس کے اختیارِ سماعت کو چیلنج کیا گیا ہے۔جسٹس ہاشم کاکڑ نے استفسار کیا کہ جب ایشوز فریم نہیں ہوئے تھے تو جرح کیوں کی گئی اور گواہان کیسے پیش کیے گئے؟ وکیل نے مؤقف اپنایا کہ ٹرائل کورٹ نے کہا تھا کہ جرح نہ کرنے پر حق ختم ہو جائے گا جبکہ کیس اختتامی مراحل میں ہے۔ انہوں نے استدعا کی کہ سپریم کورٹ ٹرائل کورٹ کو فیصلہ سنانے سے روکے۔عدالت نے فریقین کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت ملتوی کر دی۔