سپریم کورٹ کے رجسٹرار سہیل لغاری اور چیف جسٹس کے سیکریٹری مشتاق احمد نے سپریم کورٹ کی مختلف خدمات، ڈیجیٹل اصلاحات اور شکایات کے ازالے کے نظام پر میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ عدالت عظمیٰ میں مقدمات کی مقرر ی کے نظام کو مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے منسلک کرنے پر کام جاری ہے تاکہ مقدمات کی مقرر ی پالیسی کے مطابق خودکار انداز میں ہو اور …
سپریم کورٹ میں مقدمات کی مقرر ی کے نظام کو مصنوعی ذہانت سے منسلک کرنے پر کام جاری ، انسانی عمل دخل ختم ہوگا

مزید خبریں
اسلام آباد۔29جولائی (اے پی پی):سپریم کورٹ کے رجسٹرار سہیل لغاری اور چیف جسٹس کے سیکریٹری مشتاق احمد نے سپریم کورٹ کی مختلف خدمات، ڈیجیٹل اصلاحات اور شکایات کے ازالے کے نظام پر میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ عدالت عظمیٰ میں مقدمات کی مقرر ی کے نظام کو مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے منسلک کرنے پر کام جاری ہے تاکہ مقدمات کی مقرر ی پالیسی کے مطابق خودکار انداز میں ہو اور انسانی عمل دخل کا خاتمہ کیا جا سکے۔
چیف جسٹس کے سیکریٹری مشتاق احمد نے کہا کہ سپریم کورٹ میں اس وقت مجموعی طور پر 35 خدمات فراہم کی جا رہی ہیں جن میں سے بیشتر کو آن لائن کر دیا گیا ہے جبکہ مزید 12 خدمات کو بھی آن لائن کرنے پر کام جاری ہے تاکہ سائلین کو زیادہ سہولت فراہم کی جا سکے۔انہوں نے بتایا کہ سپریم کورٹ کے شکایات سیل کو اب تک 50 ہزار 830 شکایات موصول ہو چکی ہیں، جن میں سے صرف دو شکایات براہ راست سپریم کورٹ کے افسران سے متعلق تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ اب صرف متعلقہ شکایت پر کارروائی کرتی ہے اور کرپشن کی ایک شکایت پر سپریم کورٹ کے ایک افسر کے خلاف کارروائی بھی کی گئی۔
مشتاق احمد نے کہا کہ اوورسیز پاکستانیوں کی جانب سے سپریم کورٹ کے شکایات سیل کے بارے میں مثبت ردعمل سامنے آیا ہے۔ اوورسیز شکایات سیل کو 1063 شکایات موصول ہوئیں، جن میں سے 22 شکایات سپریم کورٹ سے متعلق تھیں اور ان میں سے 14 شکایات نمٹا دی گئی ہیں۔اس موقع پر سپریم کورٹ کے رجسٹرار سہیل لغاری نے بتایا کہ نیب سے متعلق وفاقی آئینی عدالت کے حالیہ فیصلے کے بعد سپریم کورٹ میں زیر التوا مقدمات کی درجہ بندی (کیٹگرائزیشن) کا عمل جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت سپریم کورٹ میں نیب سے متعلق تقریباً 300 مقدمات موجود ہیں، جن کے بارے میں عدالتی فیصلے کی روشنی میں مزید کارروائی کی جا رہی ہے۔








