سپریم کورٹ میں 26ویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواستوں کی سماعت، فل کورٹ کے اختیار پر تفصیلی بحث

اسلام آباد۔21اکتوبر (اے پی پی):سپریم کورٹ میں 26ویں آئینی ترمیم کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت منگل کو بھی جاری رہی، سماعت جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں آٹھ رکنی آئینی بینچ نے کی ۔بنچ میں جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عائشہ ملک، جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس مسرت ہلالی، جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس شاہد بلال شامل تھے ۔ سماعت کو سپریم کورٹ …

اسلام آباد۔21اکتوبر (اے پی پی):سپریم کورٹ میں 26ویں آئینی ترمیم کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت منگل کو بھی جاری رہی، سماعت جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں آٹھ رکنی آئینی بینچ نے کی ۔بنچ میں جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عائشہ ملک، جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس مسرت ہلالی، جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس شاہد بلال شامل تھے ۔ سماعت کو سپریم کورٹ کی جانب سے براہِ راست نشر کیا گیا۔سماعت کے آغاز پر درخواست گزار وکیل شبر رضا رضوی نے اپنے دلائل پیش کیے۔ انہوں نے مؤقف اپنایا کہ آرٹیکل 191 اے کو دیگر آئینی دفعات کے ساتھ ملا کر پڑھنا ضروری ہے کیونکہ یہ دفعہ اکیلی نہیں سمجھی جا سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 191 اے کے باوجود سپریم کورٹ کا آرٹیکل 184(3) کے تحت اختیار ختم نہیں ہوا بلکہ اس کا انتقال آئینی بینچ کو ہوا ہے۔جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ191 اے میں واضح طور پر لکھا ہے کہ 184(3) کے اختیارات آئینی بینچ کو دیے گئے ہیں۔

جسٹس مسرت ہلالی نے پوچھا، "کیا آپ چاہ رہے ہیں کہ ہم 26ویں آئینی ترمیم کو پہلے معطل کریں؟ 191 اے کو کیسے بائی پاس کریں گے؟وکیل شبررضا رضوی نے کہا کہ وفاقی شرعی عدالت کے قیام کے وقت بھی اسی نوعیت کی بحث ہوئی تھی مگر وہ عدالت سپریم کورٹ کا حصہ ہی رہی۔ ان کے مطابق آئینی بینچ بھی سپریم کورٹ ہی کا حصہ ہے اور آرٹیکل 187 کے تحت مکمل انصاف کرنے کے اختیارات رکھتا ہے۔جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیے کہ "سوال یہ نہیں کہ بینچ کے اختیارات کیا ہیں بلکہ یہ کہ غیر آئینی بینچ کے ججز کو آئینی بینچ کا حصہ کیسے بنایا جا سکتا ہے۔جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ ریگولر بینچ اور آئینی بینچ دونوں ایک ہی درخت کی دو شاخیں ہیں، ایک دوسرے سے الگ نہیں۔وکیل شبر رضوی نے کہا کہ ترمیم کے نتیجے میں آئینی بینچ کو "آئینی عدالت” سمجھا جا سکتا ہے۔ اس پر جسٹس جمال مندوخیل نے تبصرہ کیا کہ "ویسے آپ مشورہ اچھا دے رہے ہیں۔”دورانِ سماعت فل کورٹ کی تشکیل کے حوالے سے بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔

وکیل شبر رضوی نے مؤقف اختیار کیا کہ اگر صدر مملکت ریفرنس چیف جسٹس کو بھیج سکتا ہے تو موجودہ بینچ بھی معاملہ چیف جسٹس کو ریفر کر سکتا ہے۔ جسٹس محمد علی مظہر نے سوال کیا، "ہم کس کو ریفر کریں؟ چیف جسٹس تو آئینی بینچ کا حصہ نہیں ہیں۔وکیل نے کہا کہ "آپ آرٹیکل 191 اے سے نکل کر اپنے آپ کو سپریم کورٹ سمجھیں۔اس پر جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ "چاہے کسی کو پسند ہو یا نہ ہو، 26ویں آئینی ترمیم آئین کا حصہ بن چکی ہے۔وکیل شبر رضوی کے دلائل مکمل ہونے کے بعددرخواست گزار انس احمد کے وکیل ڈاکٹر عدنان خان نے دلائل کا آغاز کیا۔ انہوں نے کہا کہ فل کورٹ کے پاس کیس سننے کا اختیار ہے اور عدالتی تاریخ میں اس کی متعدد مثالیں موجود ہیں۔جسٹس مسرت ہلالی نے سوال اٹھایا کہ "کیا 26ویں ترمیم نے اس عدالتی روایت کا راستہ روک نہیں دیا؟وکیل عدنان خان نے مؤقف اپنایا کہ چونکہ موجودہ بینچ ترمیم کے تحت تشکیل پایا ہے

اس لیے یہ مناسب فورم نہیں۔جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ "اگر فل کورٹ کے پاس اختیار ہے تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں مگر سوال یہ ہے کہ کیا اس بینچ کے پاس فل کورٹ بنانے کا اختیار ہے؟”سماعت کے اختتام پر عدالت نے 26ویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواستوں کی مزید سماعت بدھ تک ملتوی کر دی۔

مزید خبریں