سپریم کورٹ نے ایف بی آر کا موقف مسترد کرکے کوکا کولا پاکستان کے حق میں فیصلہ دے دیا

اسلام آباد ۔12نومبر (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے کوکا کولا پاکستان لمیٹڈ کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے مؤقف کو مسترد کردیا ۔سپریم کورٹ کی جانب سے رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ تحریری فیصلے کے مطابق عدالتِ عظمیٰ نے قرار دیا کہ آمدنی کے مختلف ذرائع میں اخراجات کی تقسیم کے لیے کسی ایک قاعدے یا فارمولا کو لازمی قرار …

اسلام آباد ۔12نومبر (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے کوکا کولا پاکستان لمیٹڈ کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے مؤقف کو مسترد کردیا ۔سپریم کورٹ کی جانب سے رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ تحریری فیصلے کے مطابق عدالتِ عظمیٰ نے قرار دیا کہ آمدنی کے مختلف ذرائع میں اخراجات کی تقسیم کے لیے کسی ایک قاعدے یا فارمولا کو لازمی قرار نہیں دیا جا سکتابلکہ قانون کے مطابق "کسی بھی معقول بنیاد” پر اخراجات کی تقسیم ممکن ہے۔

فیصلہ جسٹس منیب اختر نے تحریر کیاجبکہ بینچ میں جسٹس محمد شفیع صدیقی اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب بھی شامل تھے۔فیصلہ 12 نومبر 2025 کو اسلام آباد میں سنایا گیا ۔یہ کیس ٹیکس سال 2003 سے متعلق تھا جس میں ایف بی آر نے مؤقف اختیار کیا کہ کوکا کولا نے اپنے اخراجات کی تقسیم ’’ آمدنی ٹیکس رول 13‘‘ کے مطابق نہیں کی۔ تاہم عدالت نے قرار دیا کہ اگر ٹیکس دہندہ نے اخراجات کی تقسیم کسی معقول اور قابلِ جواز بنیاد پر کی ہے تو اسے محض اس بنیاد پر غلط نہیں کہا جا سکتا کہ ایف بی آر کا فارمولا مختلف ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 67(1) کے تحت ٹیکس دہندہ پر لازم ہے کہ وہ اخراجات کی تقسیم کسی معقول بنیاد پر کرےتاہم ایف بی آر کی طرف سے بنائے گئے قواعد (Rule 13) کو حتمی یا لازمی نہیں کہا جا سکتا۔جسٹس منیب اختر نے تحریر کیا کہ یہ کہنا درست نہیں کہ ایف بی آر کے رولز بننے کے بعد صرف وہی بنیاد واحد طریقۂ کار بن جائے۔

قانون میں ’کسی بھی معقول بنیاد‘ کا مطلب یہی ہے کہ ہر قابلِ جواز طریقہ اختیار کیا جا سکتا ہے چاہے وہ ایف بی آر کے رولز سے مختلف ہی کیوں نہ ہو۔سپریم کورٹ نے یہ بھی قرار دیا کہ چونکہ کوکا کولا نے اپنے اخراجات کی تقسیم گراس پرافٹ ریشو (Gross Profit Ratio) کی بنیاد پر کی تھی جو ایک معقول طریقہ تھا اس لیے اس کے خلاف ایف بی آر کی ترمیم شدہ اسیسمنٹ قانونی طور پر درست نہیں۔عدالت نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے کوکا کولا پاکستان لمیٹڈ کی اپیل منظور کرلی۔

مزید خبریں