پشاور ہائیکورٹ نے خیبرپختونخوا کی مختلف سرکاری یونیورسٹیوں میں نگران دور حکومت کے دوران بھرتی کیے گئے تدریسی اور انتظامی ملازمین کو برطرف کرنے کا صوبائی حکومت کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا
پشاور ہائیکورٹ ، نگران دور حکومت کے دوران بھرتی کیے گئے تدریسی اور انتظامی ملازمین کو برطرف کرنے کا صوبائی حکومت کا فیصلہ کالعدم قرار

مزید خبریں
پشاور۔ 11 ستمبر (اے پی پی):پشاور ہائیکورٹ نے خیبرپختونخوا کی مختلف سرکاری یونیورسٹیوں میں نگران دور حکومت کے دوران بھرتی کیے گئے تدریسی اور انتظامی ملازمین کو برطرف کرنے کا صوبائی حکومت کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔جسٹس نعیم انور اور جسٹس کامران حیات میاں خیل پر مشتمل بنچ نے ڈاکٹر کومل سمیت دیگر ملازمین کی درخواستوں پر سماعت کی۔سماعت کے دوران درخواست گزاروں کے وکلا شمائل بٹ، شمس الہادی، فضل ہادی اور جہانزیب محسود نے دلائل دیتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ صوبائی حکومت نے ملازمین کی برطرفی سے متعلق 2025 کا قانون منظور کیا، جس کے تحت نگران دور میں ہونے والی بھرتیوں کو غیرقانونی قرار دیا گیا ہے۔وکلا نے موقف اپنایا کہ سرکاری یونیورسٹیاں صوبائی حکومت کے انتظامی محکمے نہیں بلکہ خودمختار ادارے ہیں، جو اپنی ضروریات کے مطابق بھرتیاں کرنے کا اختیار رکھتی ہیں۔ یونیورسٹیوں کا انتظام ان کے متعلقہ ایکٹس کے تحت قائم سینڈیکیٹ اور سینیٹ کے ذریعے چلایا جاتا ہے درخواست گزاروں کے وکلا کے مطابق تمام سرکاری یونیورسٹیوں میں تدریسی اور انتظامی کیڈر کے لیے سلیکشن بورڈز منعقد ہوئے تھے، جبکہ ان آسامیوں پر تقرریوں کا عمل کئی سال سے زیر التوا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ صرف تقرریاں نگران دور میں سلیکشن بورڈ کے ذریعے ہوئیں، جبکہ بھرتی کے دیگر مراحل پہلے ہی مکمل کیے جاچکے تھے، اس لیے مذکورہ قانون یونیورسٹیوں پر لاگو نہیں ہوتا۔صوبائی حکومت کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ پشاور ہائیکورٹ ایک سابقہ مقدمے میں نگران حکومت کے دور میں بھرتی کیے گئے ملازمین کی برطرفی کو چیلنج کرنے والی پاکستان پیپلز پارٹی کی درخواست مسترد کرچکی ہے۔حکومتی وکیل کے مطابق عدالت نے قرار دیا تھا کہ نگران حکومت کا بنیادی مقصد شفاف انتخابات اور روزمرہ کے امور چلانا ہے، پالیسی نوعیت کے فیصلے کرنا نہیں۔تاہم پشاور ہائیکورٹ نے اپنے تحریری فیصلے میں قرار دیا کہ 2025 میں منظور کیا گیا قانون صوبائی حکومت کے زیر انتظام محکموں پر لاگو ہوتا ہے، جبکہ یونیورسٹیوں کے اپنے متعلقہ ایکٹس موجود ہیں اور ان ایکٹس کے تحت سلیکشن بورڈز بھی قائم ہیں۔عدالت نے قرار دیا کہ یونیورسٹیوں میں سلیکشن کے قانونی طریقہ کار کے تحت ہونے والی تقرریوں کو محض نگران دور میں تقرری ہونے کی بنیاد پر بیک جنبش قلم ختم کرنا غیرقانونی ہے۔عدالت نے نگران دور میں بھرتی کیے گئے اور بعد ازاں مذکورہ احکامات کے تحت برطرف کیے جانے والے ملازمین کو سابقہ تاریخوں سے بحال کرنے کا حکم دیتے ہوئے ہدایت کی کہ انہیں گزشتہ مدت کی تنخواہیں اور دیگر مراعات بھی ادا کی جائیں







