سپریم کورٹ نے تعمیراتی سامان پر ان پٹ ٹیکس ایڈجسٹمنٹ سے متعلق محکمہ ریونیو کا موقف درست قرار دے دیا

سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ فیکٹری یا صنعتی ڈھانچے کی تعمیر میں استعمال ہونے والے سیمنٹ اور سٹیل پر ان پٹ ٹیکس ایڈجسٹمنٹ کا دعویٰ قانون کے مطابق قابل قبول نہیں جبکہ سیلز ٹیکس قوانین کی تشریح سے متعلق معاملات محض حقائق نہیں بلکہ اہم قانونی سوالات ہیں۔

اسلام آباد۔20جولائی (اے پی پی):سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ فیکٹری یا صنعتی ڈھانچے کی تعمیر میں استعمال ہونے والے سیمنٹ اور سٹیل پر ان پٹ ٹیکس ایڈجسٹمنٹ کا دعویٰ قانون کے مطابق قابل قبول نہیں جبکہ سیلز ٹیکس قوانین کی تشریح سے متعلق معاملات محض حقائق نہیں بلکہ اہم قانونی سوالات ہیں۔ عدالت نے محکمہ ان لینڈ ریونیو کی اپیل منظور کرتے ہوئے سندھ ہائی کورٹ اور اپیلیٹ ٹریبونل ان لینڈ ریونیو کے فیصلے کالعدم قرار دے کر محکمہ کا اصل فیصلہ بحال کر دیا۔چیف جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس عرفان سعادت خان اور جسٹس شکیل احمد پر مشتمل تین رکنی بینچ نے کمشنر ان لینڈ ریونیو زون ٹو، لارج ٹیکس پیئر یونٹ کراچی کی جانب سے باوانی شوگر ملز لمیٹڈ کے خلاف دائر سول اپیل نمبر 939 آف 2018 کا محفوظ فیصلہ جاری کیا۔

جسٹس عرفان سعادت خان نے 12 صفحات پر مشتمل فیصلہ تحریر کیا۔فیصلے کے مطابق ٹیکس دہندہ کمپنی نے جولائی سے دسمبر 2013 کے دوران فیکٹری کی تعمیر میں استعمال ہونے والے سیمنٹ اور سٹیل پر ان پٹ ٹیکس ایڈجسٹمنٹ کا دعویٰ کیا تھا جسے محکمہ ان لینڈ ریونیو نے سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 اور متعلقہ ایس آر اوز کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا تھا۔

بعد ازاں اپیلیٹ ٹریبونل ان لینڈ ریونیو نے کمپنی کی اپیل منظور کر لی جبکہ سندھ ہائی کورٹ نے بھی محکمہ کی ٹیکس ریفرنس درخواست مسترد کر دی تھی۔سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کی دفعہ 3 قابل ٹیکس اشیاء پر لاگو ہوتی ہے جبکہ فیکٹریوں اور دیگر غیر منقولہ تعمیرات کو قابل ٹیکس سپلائی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ عدالت نے کہا کہ قانون اور متعلقہ ایس آر اوز کے تحت تعمیراتی سامان خصوصاً سیمنٹ اور سٹیل پر ان پٹ ٹیکس ایڈجسٹمنٹ کی اجازت نہیں دی جا سکتی کیونکہ یہ سامان مستقل طور پر غیر منقولہ جائیداد کا حصہ بن جاتا ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ سیلز ٹیکس ایکٹ کی دفعہ 73 کے تحت ان پٹ ٹیکس کے دعوے کے لیے ادائیگی کا مقررہ بینکنگ چینل کے ذریعے ہونا لازمی شرط ہے اور اس شرط پر عمل نہ ہونے کی صورت میں ان پٹ ٹیکس کا دعویٰ قابل قبول نہیں رہتا۔سپریم کورٹ نے یہ اصول بھی دہرایا کہ قانون کے کسی نکتے پر فریق یا اس کے وکیل کی جانب سے کیا گیا اعتراف عدالت کو پابند نہیں کرتا کیونکہ قانون کے خلاف کوئی ایسٹوپل نہیں ہو سکتا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ قانون کی درست تشریح کرنا عدالت کی آئینی اور قانونی ذمہ داری ہے اس لیے کسی نمائندے کی قانونی رعایت یا اعتراف کو بنیاد بنا کر قانون سے انحراف نہیں کیا جا سکتا۔

عدالت نے قرار دیا کہ سندھ ہائی کورٹ اور اپیلیٹ ٹریبونل ان لینڈ ریونیو نے معاملے کو محض حقائق کا تنازع قرار دے کر غلطی کی کیونکہ سیلز ٹیکس ایکٹ کی متعلقہ دفعات اور ایس آر اوز کی تشریح بنیادی قانونی سوالات تھے جن پر باقاعدہ فیصلہ ہونا ضروری تھا۔ سپریم کورٹ نے دونوں قانونی سوالات محکمہ ان لینڈ ریونیو کے حق اور ٹیکس دہندہ کے خلاف طے کرتے ہوئے محکمہ کی اپیل منظور کر لی اور ان پٹ ٹیکس ایڈجسٹمنٹ مسترد کرنے کا اصل حکم بحال کر دیا۔

مزید خبریں