سپریم کورٹ نے سروس میٹر میں حکومت کی اپیل کو زائدالمیعاد قرار دے کر خارج کردیا

اسلام آباد۔20فروری (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے سروس میٹر میں حکومت کی اپیل کو زائدالمیعاد قرار دے کر خارج کردیا۔ عدالت نے تاخیر معاف کرنے کی استدعا بھی مسترد کردی۔جسٹس عائشہ ملک نے تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا کہ حکومت کو بھی عدالت میں وہی پروٹوکول ملے گا جو ایک عام شہری کو ملتا ہے اور اسے بھی عام شہری کی طرح قانون کا پابند ہونا …

اسلام آباد۔20فروری (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے سروس میٹر میں حکومت کی اپیل کو زائدالمیعاد قرار دے کر خارج کردیا۔ عدالت نے تاخیر معاف کرنے کی استدعا بھی مسترد کردی۔جسٹس عائشہ ملک نے تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا کہ حکومت کو بھی عدالت میں وہی پروٹوکول ملے گا جو ایک عام شہری کو ملتا ہے اور اسے بھی عام شہری کی طرح قانون کا پابند ہونا پڑے گا۔

فیصلے میں کہا گیا کہ دفتروں کے اندرونی رولز یا انتظامی مشکلات مقررہ قانونی مدت سے بالاتر نہیں ہو سکتیں۔عدالت نے ریمارکس دیے کہ سرکاری افسران کی کمی، کمیٹیوں کے اجلاس نہ ہونا یا افسر کے تبادلے جیسے عوامل حکومت کا اپنا انتظامی معاملہ ہیں، انہیں بنیاد بنا کر تاخیر کو جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔

بیوروکریسی کی سستی کا بوجھ عدالت یا دوسرے فریق پر نہیں ڈالا جا سکتا۔تحریری فیصلے کے مطابق قانون پر عملدرآمد افسران کی سہولت کے تابع نہیں بلکہ نظم و ضبط اور مقررہ مدت کی پابندی کا تقاضا کرتا ہے۔

ریکارڈ کے مطابق وفاقی حکومت نے مقررہ 60 دن کی قانونی مدت گزرنے کے بعد 20 دن کی تاخیر سے اپیل دائر کی تھی، جسے عدالت نے ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے خارج کردیا۔