سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا ہے کہ اگر کسی سرکاری ملازم کی غیر حاضری کو بعد ازاں چھٹی میں تبدیل کر دیا جائے تو پھر اسی بنیاد پر اسے برطرف کرنا قانونی طور پر مشکوک ہو جاتا ہے۔
سپریم کورٹ نے سرکاری ملازم کی برطرفی کا فیڈرل سروس ٹربیونل کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا
اسلام آباد۔23اپریل (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا ہے کہ اگر کسی سرکاری ملازم کی غیر حاضری کو بعد ازاں چھٹی میں تبدیل کر دیا جائے تو پھر اسی بنیاد پر اسے برطرف کرنا قانونی طور پر مشکوک ہو جاتا ہے۔ عدالت نے وفاقی حکومت کے متضاد مؤقف پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے فیڈرل سروس ٹربیونل کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا اور کیس دوبارہ سماعت کے لیے ٹربیونل کو واپس بھیج دیا۔جسٹس محمد علی مظہر نے وزارتِ تجارت کے ملازم ارسلان احمد کے کیس کا تحریری فیصلہ جاری کیا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ حکومت کی جانب سے مختلف فورمز پر اپنائے گئے مؤقف ایک دوسرے کی نفی کرتے ہیں، جس سے یہ طے کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ کس موقف کو درست تسلیم کیا جائے۔کیس کے مطابق درخواست گزار ارسلان احمد کو ڈیوٹی سے غیر حاضری کی بنیاد پر ملازمت سے برطرف کیا گیا تھا۔
درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کی اہلیہ کی شدید علالت اور کورونا وائرس کی وبا کے دوران پروازوں کی بندش کے باعث وہ بروقت ڈیوٹی جوائن نہیں کر سکے، جبکہ ان کے خلاف یکطرفہ تادیبی کارروائی کی گئی۔عدالت کے سامنے یہ بات بھی آئی کہ برطرفی کے ساتھ ہی درخواست گزار کی غیر حاضری کے عرصے کو بغیر تنخواہ چھٹی میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔ درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اپنایا کہ جب غیر حاضری کو باقاعدہ طور پر چھٹی میں ریگولرائز کر دیا جائے تو پھر برطرفی کا جواز باقی نہیں رہتا۔دوسری جانب وفاقی حکومت نے ٹربیونل میں مؤقف اختیار کیا کہ غیر حاضری کو چھٹی میں تبدیل کرنا ڈپٹی سیکرٹری کی غلطی تھی، تاہم سپریم کورٹ میں یہ تسلیم کیا گیا کہ مذکورہ اقدام سیکرٹری کامرس کی منظوری سے کیا گیا تھا۔
عدالت نے قرار دیا کہ حکومت کے دونوں بیانات ایک دوسرے سے متصادم ہیں۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ قانون کے مطابق غیر حاضری کو ماضی سے لاگو کرتے ہوئے چھٹی میں تبدیل کیا جا سکتا ہے، تاہم ایسے اقدام کے بعد اسی بنیاد پر برطرفی کا فیصلہ برقرار رکھنا بظاہر غیر منطقی معلوم ہوتا ہے۔عدالت نے فیڈرل سروس ٹربیونل کو ہدایت کی کہ فریقین کو سن کر کیس کا ازسرِ نو فیصلہ تین ماہ کے اندر کیا جائے۔









