سپریم کورٹ آف پاکستان نے شفاف، قابلِ رسائی اور عوام دوست نظامِ انصاف کے قیام کی جانب اہم پیش رفت کرتے ہوئے جدید ٹیکنالوجی کو عدالتی نظام میں کامیابی سے ضم کر دیا ہے، جس کے ذریعے ملک بھر میں انصاف کی فراہمی کے طریقہ کار کو نئی جہت مل گئی ہے۔
سپریم کورٹ نے ملٹی لوکیشن سماعتوں کا مؤثر نظام نافذ کر دیا
اسلام آباد۔22اپریل (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے شفاف، قابلِ رسائی اور عوام دوست نظامِ انصاف کے قیام کی جانب اہم پیش رفت کرتے ہوئے جدید ٹیکنالوجی کو عدالتی نظام میں کامیابی سے ضم کر دیا ہے، جس کے ذریعے ملک بھر میں انصاف کی فراہمی کے طریقہ کار کو نئی جہت مل گئی ہے۔جاری پریس ریلیز کے مطابق عدالتِ عظمیٰ نے ملٹی لوکیشن سماعتوں کا مؤثر نظام نافذ کر دیا ہےجس کے تحت ججز، وکلا اور فریقین بغیر جغرافیائی رکاوٹوں کے مختلف شہروں سے بیک وقت عدالتی کارروائی میں حصہ لے سکتے ہیں۔ حالیہ ایک اہم سماعت میں بینچ اسلام آباد میں موجود تھا جبکہ وکلا نے کوئٹہ، حیدرآباد اور کراچی سے وڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی، جس سے کارروائی بلا تعطل جاری رہی۔
عدالت نے ادارہ جاتی لچک کا مظاہرہ کرتے ہوئے بینچ کی تشکیل میں اچانک تبدیلی کے باوجود کارروائی کو متاثر نہیں ہونے دیا۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے اسلام آباد سے جبکہ جسٹس عائشہ اے ملک نے لاہور سے بینچ میں شامل ہو کر سماعت جاری رکھی جس سے عدالتی کارکردگی برقرار رہی۔پریس ریلیز میں بتایا گیا کہ آج کی تمام کاز لسٹ کی سماعت بھی اسی جدید نظام کے تحت ہوئی، جہاں بینچ اسلام آباد میں موجود تھا جبکہ وکلا اور فریقین کوئٹہ سے پیش ہوئے، جو مکمل طور پر ٹیکنالوجی پر مبنی عدالتی نظام کی عملی مثال ہے۔ی
ہ پیش رفت اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ عدالت نے روایتی کاغذی ریکارڈ پر انحصار کم کرتے ہوئے مکمل ڈیجیٹل کیس فائلز کا استعمال شروع کر دیا ہے۔ اس اقدام سے برانچ رجسٹریز سے ریکارڈ طلب کرنے کی ضرورت ختم ہو گئی ہےجس سے عدالتی کارروائی میں تیزی، شفافیت اور کارکردگی میں نمایاں بہتری آئی ہے۔
سپریم کورٹ کی اصلاحات میں کیس فائلز کی ڈیجیٹائزیشن، مقدمات کی بارکوڈنگ، آن لائن کیس فائلنگ، عدالتی احکامات کی الیکٹرانک ترسیل، ڈیجیٹل ادائیگی کا نظام، ویڈیو لنک سماعتوں کا فروغ اور ای آفس سسٹم کا نفاذ شامل ہیں۔اعلامیے کے مطابق یہ اصلاحات روایتی عدالتی طریقہ کار سے ہٹ کر ایک جدید، ٹیکنالوجی پر مبنی نظام کی بنیاد رکھتی ہیں، جس کا مقصد انصاف کی فراہمی کو زیادہ مؤثر، شفاف اور عوام کے لیے آسان بنانا ہے۔









