سپریم کورٹ نے ٹی اینڈ ٹی ایمپلائز کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی کی اپیل کی اجازت کی درخواست مسترد کر دی

سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ کسی غلط فورم سے رجوع کرنا بعد میں ہونے والی تمام تاخیر کو خودکار طور پر معاف کرانے کا جواز نہیں بنتا جبکہ تاخیر معاف کرانے کے لیے ضروری ہے

اسلام آباد۔3جون (اے پی پی):سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ کسی غلط فورم سے رجوع کرنا بعد میں ہونے والی تمام تاخیر کو خودکار طور پر معاف کرانے کا جواز نہیں بنتا جبکہ تاخیر معاف کرانے کے لیے ضروری ہے کہ درخواست گزار مسلسل نیک نیتی اور مستعدی کے ساتھ قانونی چارہ جوئی جاری رکھنے کا ثبوت دے۔رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلہ کے مطابق چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس شاہد بلال حسن پر مشتمل دو رکنی بینچ نے ٹی اینڈ ٹی ایمپلائز کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی اسلام آباد کی جانب سے دائر اپیل کی اجازت کی درخواست (سی پی ایل اے نمبر 3469/2025) مسترد کرتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا۔عدالت کے جاری کردہ حکم نامے کے مطابق حاجی غلام حسین نے اسلام آباد کے علاقے پنڈ پریاں میں واقع اراضی سے متعلق مخصوص کارکردگی اور مستقل حکم امتناعی کے لیے دیوانی مقدمہ دائر کیا تھا۔

مقدمے کی سماعت کے دوران مدعا علیہان کے خلاف 22 دسمبر 2017 کو یک طرفہ کارروائی کی گئی۔ بعد ازاں سوسائٹی نے عدم تعمیلِ سمن کا موقف اختیار کرتے ہوئے یک طرفہ کارروائی ختم کرنے کی درخواست دائر کی، تاہم ثبوت پیش نہ کرنے پر یہ درخواست 5 اپریل 2018 کو مسترد کر دی گئی اور اسی روز مقدمہ مدعی کے حق میں یک طرفہ طور پر ڈگری کر دیا گیا۔سوسائٹی نے پہلے ڈسٹرکٹ جج اسلام آباد ویسٹ کے روبرو اپیل دائر کی، تاہم مالیاتی دائرہ اختیار نہ ہونے کے باعث 30 مئی 2018 کو اپیل واپس کر دی گئی۔ بعد ازاں سوسائٹی نے 11 جولائی 2018 کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں ریگولر فرسٹ اپیل دائر کی، جسے ہائی کورٹ نے مدتِ میعاد گزر جانے اور دیگر قانونی نقائص کی بنیاد پر مسترد کر دیا۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ اگرچہ غلط فورم کے سامنے زیر التوا رہنے والی مدت کو درخواست گزار کے حق میں شمار بھی کر لیا جائے، تب بھی اپیل واپس ہونے کے بعد مجاز فورم سے رجوع کرنے میں تقریباً 37 دن کی تاخیر ہوئی جس کی کوئی معقول اور تسلی بخش وضاحت پیش نہیں کی گئی۔

عدالت نے کہا کہ قانونِ میعاد کے تحت حاصل ہونے والے حقوق کو محض ’’انصاف کے تقاضوں‘‘ یا ’’نیک نیتی کی غلطی‘‘ کے عمومی دعووں کی بنیاد پر ختم نہیں کیا جا سکتا۔عدالت نے مزید مشاہدہ کیا کہ درخواست گزار نے پورے مقدمے کے دوران غیر سنجیدہ اور غفلت پر مبنی طرزِ عمل اختیار کیا۔ پہلے مقدمہ یک طرفہ طور پر چلنے دیا گیا، پھر عدم تعمیلِ سمن کے دعوے کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا، بعد ازاں غلط فورم پر اپیل دائر کی گئی اور اپیل واپس ہونے کے بعد بھی بروقت مجاز عدالت سے رجوع نہیں کیا گیا۔ مزید برآں ہائی کورٹ میں دائر اپیل ضروری فریقین کو شامل نہ کرنے کے باعث بھی ناقابلِ سماعت قرار پائی۔ سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے معاملے کا درست قانونی جائزہ لیا اور درخواست گزار کو قانون کے مطابق ریلیف سے محروم کیا۔ عدالت نے اپیل کی اجازت کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کیس نمٹا دیا۔