سپریم کورٹ نے پاناما کیس کا فیصلہ سنا دیا، معاملے کی تحقیقات کیلئے جے آئی ٹی تشکیل دینے کاحکم

اسلام آباد ۔ 20 اپریل (اے پی پی) سپریم کورٹ نے پاناما پیپرز لیکس کے حوالے سے مقدمہ کا فیصلہ سناتے ہوئے اس معاملے کی تحقیقات کیلئے مشترکہ ٹیم (جے آئی ٹی )تشکیل دینے کاحکم جاری کردیاہے اورکہاہے کہ جے آئی ٹی ہردوہفتہ میں سپریم کورٹ کے متعلقہ بنچ کوپیشرفت سے آگاہ کرتے ہوئے60روزمیں اپنی حتمی رپورٹ پیش کرے گی، جے آئی ٹی نیب، ایف آئی اے، ایم آئی، آئی …

اسلام آباد ۔ 20 اپریل (اے پی پی) سپریم کورٹ نے پاناما پیپرز لیکس کے حوالے سے مقدمہ کا فیصلہ سناتے ہوئے اس معاملے کی تحقیقات کیلئے مشترکہ ٹیم (جے آئی ٹی )تشکیل دینے کاحکم جاری کردیاہے اورکہاہے کہ جے آئی ٹی ہردوہفتہ میں سپریم کورٹ کے متعلقہ بنچ کوپیشرفت سے آگاہ کرتے ہوئے60روزمیں اپنی حتمی رپورٹ پیش کرے گی، جے آئی ٹی نیب، ایف آئی اے، ایم آئی، آئی ایس آئی، سٹیٹ بینک اورسکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن کے افسران پرمشتمل ہوگی، عدالت نے متعلقہ اداروں سے جے آئی ٹی کیلئے سات روز میں افسران کی نامزدگیاں طلب کرتے ہوئے ہدایت کی کہ افسران کی نامزدگیاں چیمبرمیں عدالت کوپیش کی جائیں۔ جمعرات کو پانامہ کیس کاپانچ سوسے زائد صفحات پرمشتمل فیصلہ پانچ رکنی لارجربنچ کے سربراہ آصف سعید کھوسہ نے بنچ کے دیگرارکان کی موجودگی میں پڑھ کرسنایا اور بتایا کہ پاناما کیس کا فیصلہ تین دوکے تناسب سے لکھا گیاہے۔ عدالتی حکم اتفاق رائے سے جبکہ جسٹس گلزار اورخود انہوں نے دوسرے جج صاحبان کے فیصلے سے آگے بڑھتے ہوئے نوٹ تحریر کیا اورمختلف ڈکلریشن اور ہدایات دی ہیں۔ جسٹس اعجازافضل خان، جسٹس شیخ عظمت سعید اورجسٹس اعجازالاحسن نے جے آئی ٹی بنانے پراتفاق تاکہ کیس کی سماعت کے دوران اٹھائے جانے والے مختلف سوالات کے جوابات حاصل کئے جاسکیں۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے جے آئی ٹی بنانے کی وجوہات بتاتے ہوئے کہاکہ اس معاملے کی تحقیقات نیب کوکرنا چاہیے تھی لیکن چیئرمین نیب عدالت میں پیش ہونے کے باوجود اس امر پر تیار نظر نہیں آئے، اس لئے ہم جے آئی ٹی بنانے پر مجبور ہوئے، جو ایف آئی اے کے سینئر افسر(جوایڈیشنل ڈی جی سے کم نہ ہو) کی سربراہی میں نیب، سکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن، سٹیٹ بینک، ایم آئی اور آئی ایس آئی کے نمائندوں پر شامل ہوگی ۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ وہ 7 روز میں جے آئی ٹی کیلئے افسران کی نامزدگی کو یقینی بناتے ہوئے چیمبر میں فہرست عدالت کو پیش کریں۔

مزید خبریں

Leave a Reply