اسلام آباد۔2فروری (اے پی پی):سپریم کورٹ میں ڈپلومیٹک انکلیو میں چیف منسٹر اور گورنر بلوچستان کے لیے مہمان خانے کی تعمیر سے متعلق معاملے پر پیر کو سماعت ہوئی۔ کیس کی سماعت جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس عرفان سعادت خان پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کی۔سماعت کے دوران نجی تعمیراتی کمپنی کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ نگران وزیراعلیٰ بلوچستان نے منصوبے کا افتتاح کیا تھا تاہم …
سپریم کورٹ نے ڈپلومیٹک انکلیو میں مہمان خانے کی تعمیر سے متعلق نجی کمپنی کی درخواست خارج کردی

مزید خبریں
اسلام آباد۔2فروری (اے پی پی):سپریم کورٹ میں ڈپلومیٹک انکلیو میں چیف منسٹر اور گورنر بلوچستان کے لیے مہمان خانے کی تعمیر سے متعلق معاملے پر پیر کو سماعت ہوئی۔ کیس کی سماعت جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس عرفان سعادت خان پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کی۔سماعت کے دوران نجی تعمیراتی کمپنی کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ نگران وزیراعلیٰ بلوچستان نے منصوبے کا افتتاح کیا تھا تاہم بعد میں منصوبے کی تعمیر کا نوٹیفکیشن منسوخ کر دیا گیا۔
وکیل کے مطابق کمپنی نے آلات کی موبلائزیشن کے لیے ایڈوانس بینک گارنٹی جمع کرائی تھی اور موجودہ درخواست ایڈوانس گارنٹی کی واپسی سے متعلق ہے۔اس موقع پر جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ یہ معاملہ اس وقت ٹرائل کورٹ میں ثالثی کے لیے زیر التوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کہیں بھاگ نہیں رہی، حکومت یہیں پر ہے،ویسے بھی بینک گارنٹی کی آخری تاریخ 30 جون 2026 ہے۔جسٹس جمال خان مندوخیل نے مزید ریمارکس دیئے کہ عبوری حکومت تھی، ممکن ہے متعلقہ حکام نے عجلت میں منصوبے کی تختی لگا دی ہو، ویسے بھی ایسے منصوبوں میں بڑے بڑے سرمایہ دار پیچھے ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جہاں تک انہیں یاد پڑتا ہے اسلام آباد ہائیکورٹ نے بھی اس معاملے پر حکم امتناع جاری کیا تھا۔عدالت نے ریمارکس دیئے کہ کمپنی کی جانب سے کیے گئے اخراجات کا تعین ٹرائل کورٹ ہی کرے گی اور سپریم کورٹ اس مرحلے پر مداخلت نہیں کرے گی۔بعد ازاں سپریم کورٹ نے نجی تعمیراتی کمپنی کی درخواست خارج کرتے ہوئے ہدایت کی کہ ٹرائل کورٹ عدالتی کارروائی سے متاثر ہوئے بغیر کیس کا فیصلہ کرے۔







