اسلام آباد۔12دسمبر (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے کمسن بچے سے جنسی زیادتی کے کیس میں سزا یافتہ قیدی گل فراز کی اپیل مسترد کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے سنائی گئی 14 سال قید اور 10 لاکھ روپے جرمانے کی سزا برقرار رکھنے کا حکم دے دیا ۔ سپریم کورٹ کی جانب سے رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ تحریری و تفصیلی فیصلے کے مطابق فیصلہ …
سپریم کورٹ نے کمسن بچے سے زیادتی کے مجرم کی اپیل مستردکر دی، سزا برقرار رکھنے کا حکم

مزید خبریں
اسلام آباد۔12دسمبر (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے کمسن بچے سے جنسی زیادتی کے کیس میں سزا یافتہ قیدی گل فراز کی اپیل مسترد کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے سنائی گئی 14 سال قید اور 10 لاکھ روپے جرمانے کی سزا برقرار رکھنے کا حکم دے دیا ۔
سپریم کورٹ کی جانب سے رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ تحریری و تفصیلی فیصلے کے مطابق فیصلہ جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ اور جسٹس اسحاق ابراہیم پر مشتمل دو رکنی بینچ نے جاری کیا۔فیصلے کے مطابق 8 سالہ بچے کو 11 جون 2019ء کی شام فراش ٹائون اسلام آباد میں ایک زیر تعمیر دکان میں لے جا کر جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا، بچہ زخمی حالت میں گھر پہنچا اور والدہ کو سارا واقعہ بتایاجس کے بعد تھانہ شہزاد ٹائون میں مقدمہ درج ہوا۔میڈیکل رپورٹ میں بچے کے جسم پر متعدد زخموں، خراشوں اور چوٹوں کی تصدیق ہوئی۔
ڈی این اے رپورٹ، میڈیکل شواہد اور شناخت نے جرم ثابت کر دیا۔سپریم کورٹ کے مطابق کیس کا سب سے مضبوط ثبوت ڈی این اے رپورٹ تھی جس میں متاثرہ بچے کے کپڑوں پر ملنے والے سیمین کے نمونے مجرم گلفراز سے میچ ہوئے۔عدالت نے قرار دیا کہ متاثرہ بچے کا بیان واضح اور قابل بھروسہ ہے،شناخت پریڈ درست قانون کے مطابق ہوئی،میڈیکل شواہد جرم کی نوعیت ثابت کرتے ہیں،
ڈی این اے شواہد ناقابل تردید ہیں۔ سپریم کورٹ نے فیصلے میں قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ نے شواہد کا درست جائزہ لیا ہے اور سزا میں کوئی کمی یا بریت کی کوئی گنجائش موجود نہیں۔میڈیکل، سائنسی اور زبانی شہادتیں ایک دوسرے سے مطابقت رکھتی ہیں، مجرم کی سزا بالکل درست ہے۔








