اسلام آباد ۔ 9 اپریل (اے پی پی) اٹارنی جنرل آف پاکستان خالد جاوید خان نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ کو دی گئی بریفنگ کے نتیجہ میں ملک میں عوامی صحت اور امداد سے متعلق مسائل میں کمی آئے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو سپریم کورٹ میں صحافیوں سے گفتگو میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے کورونا …
سپریم کورٹ کو حکومت کی جانب سے دی گئی بریفنگ کے نتیجہ میں ملک میں عوامی صحت اور امداد سے متعلق مسائل میں کمی آئے گی،اٹارنی جنرل آف پاکستان

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 9 اپریل (اے پی پی) اٹارنی جنرل آف پاکستان خالد جاوید خان نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ کو دی گئی بریفنگ کے نتیجہ میں ملک میں عوامی صحت اور امداد سے متعلق مسائل میں کمی آئے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو سپریم کورٹ میں صحافیوں سے گفتگو میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے کورونا وائرس کی روک تھام کیلئے حکومت کی جانب سے کئے گئے اقدامات پر بریفننگ طلب کی تھی۔ عدالت عظمیٰ کے فاضل ججز کو تشویش تھی کہ حکومت کی جانب سے غریب عوام کیلئے اعلان کردہ امداد ی رقم صرف سفارشیوں تک ہی نہ محدود رہ جائے جس پر وفاقی حکومت کی جانب سے وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا، معاون خصوصی برائے سماجی تحفظ و تخفیف غربت ڈاکٹر ثانیہ نشتر اور چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹننٹ جنرل محمد افضل نے بدھ کو عدالت عظمیٰ کو تفصیلی بریفننگ دی تھی۔ اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے کہا کہ وزیراعظم کی معاون خصوصی ثانیہ نشتر نے عدالت عظمیٰ کو بریفننگ میں بتایا کہ غریب عوام کو دی جانے والی امدادی رقم کی فراہمی صرف ڈیٹا بیسڈ ہو گی، امدادی رقم کیلئے ہر فرد کو اپنی تصدیق کیلئے پانچ مراحل سے گزرنا پڑے گا، اس حوالے سے ٹائیگر فورس چھوٹے قصبوں، دیہاتوں میں ایسے افراد کی نشاندہی بھی کرے گی جن لوگوں کو موبائل اور انٹرنیٹ تک رسائی حاصل نہیں ہے۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ سپریم کورٹ کے ججز کو کورونا وائرس کی روک تھام کیلئے لاک ڈاؤن کے باعث ہسپتالوں کی مکمل بندش پر تشویش تھی جس پر وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کی جانب سے عدالت عظمیٰ کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ ملک بھر میں او پی ڈیز مرحلہ وار کھولی جا رہی ہیں۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت عظمیٰ کے ججز کو یہ تشویش تھی کہ کورونا وائرس کی روک تھام کیلئے لاک ڈائون کے باعث دیگر بیماریوں میں مبتلا مریض علاج سے محروم کیوں رہیں۔ اٹارنی جنر ل نے کہا کہ عدالت عظمیٰ کو دی گئی حکومتی بریفنگ کے نتیجہ میں ملک میں عوامی صحت اور امداد سے متعلق مسائل میں کمی آئے گی۔








