سپیس ایکس کا سٹارشپ کی پہلی مداری آزمائشی پرواز 22ستمبر کو کرنے کا ہدف

امریکی خلائی کمپنی سپیس ایکس نے کہا ہے کہ وہ اپنی اگلی سٹارشپ آزمائشی پرواز 22 ستمبر کو یا اس کے بعد جلد از جلد لانچ کرنے کی تیاری کر رہا ہے، جس کا مقصد پہلی بار خلائی جہاز کو مدار میں بھیجنا اور سٹارلنک وی 3 سیٹلائٹس کو خلا میں پہنچانا ہے۔

واشنگٹن ۔16ستمبر (اے پی پی):امریکی خلائی کمپنی سپیس ایکس نے کہا ہے کہ وہ اپنی اگلی سٹارشپ آزمائشی پرواز 22 ستمبر کو یا اس کے بعد جلد از جلد لانچ کرنے کی تیاری کر رہا ہے، جس کا مقصد پہلی بار خلائی جہاز کو مدار میں بھیجنا اور سٹارلنک وی 3 سیٹلائٹس کو خلا میں پہنچانا ہے۔

اماراتی نیوز ایجنسی وام کے مطابق سٹارشپ کی 14ویں آزمائشی پرواز راکٹ کی تیاری میں جولائی میں ہونے والی آخری آزمائشی پرواز کے مقابلے میں ایک اہم پیش رفت ہوگی، جس میں خلائی جہاز نے زمین پر واپس آنے سے قبل ذیلی مداری راستہ اختیار کرتے ہوئے خلا تک سفر کیا تھا، تاہم اس نے زمین کے گرد مدار مکمل نہیں کیا تھا۔کمپنی کا منصوبہ سٹارشپ کو زمین کے گرد مدار میں پہنچانا ہے، جس سے طویل دورانیے کی پرواز کے دوران خلائی جہاز کی آزمائش اور سٹارلنک وی 3 سیٹلائٹس کی پہلی کھیپ خلا میں بھیجنے کی راہ ہموار ہوگی۔

ریگولیٹری منظوری سے مشروط یہ مشن تقریباً 10 گھنٹے جاری رہنے کی توقع ہے، جس کے دوران سٹارشپ زمین سے تقریباً 275 کلومیٹر کی بلندی پر پرواز کرے گا اور چلی کے مغرب میں بحرالکاہل میں گرنے سے قبل تقریباً چھ چکر مکمل کرے گا۔سپیس ایکس کا منصوبہ بوسٹر کی لانچ، علیحدگی، واپس آنے اور سمندر میں اترنے کے مراحل کی آزمائش کرنا ہے، جس سے کمپنی مکمل طور پر دوبارہ قابل استعمال آربٹل لانچ سسٹم تیار کرنے کے اپنے ہدف کے قریب پہنچ سکے گی۔