اسلام آباد۔25نومبر (اے پی پی):سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ خواتین کے حقوق کے لیے قانون سازی میں بہتری لانے کی کوشش کر رہے ہیں،خواتین معاشرے کا اہم جزو میں ان کے حقوق میں بہتری لائے بغیر معاشرہ آگے نہیں بڑھ سکتا۔وہ بدھ کو پارلیمنٹ ہائوس میں ویمن پارلیمنٹری کاکس اور یو این ویمن کے اشتراک سے خواتین پر تشدد کے خاتمے کیلئے 16 روزہ سرگرمیوں کی …
سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کا ویمن پارلیمنٹری کاکس اور یو این ویمن کے اشتراک سے خواتین پر تشدد کے خاتمے کیلئے 16 روزہ سرگرمیوں کی افتتاحی تقریب سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد۔25نومبر (اے پی پی):سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ خواتین کے حقوق کے لیے قانون سازی میں بہتری لانے کی کوشش کر رہے ہیں،خواتین معاشرے کا اہم جزو میں ان کے حقوق میں بہتری لائے بغیر معاشرہ آگے نہیں بڑھ سکتا۔وہ بدھ کو پارلیمنٹ ہائوس میں ویمن پارلیمنٹری کاکس اور یو این ویمن کے اشتراک سے خواتین پر تشدد کے خاتمے کیلئے 16 روزہ سرگرمیوں کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے تھے ۔ سپیکر نے کہا کہ موجودہ حکومت نے فیصلے کرنے کے عمل کو یقینی بنانے کے لئے اہم اقدامات اٹھائے ہیں۔خواتین کے حقوق کے لئے قانون سازی میں بہتری لانے کے لئے کوششیں کر رہے ہیں۔16روزہ سرگرمیوں میں خواتین کی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے پر عزم ہیں۔حکومت پاکستان اور قومی اسمبلی خواتین کے تحفظ اور ان کی زندگیوں کو بہتر بنانے کے لئے قانون سازی کر رہی ہے۔خواتین معاشرے کا اہم جزو ہیں اور خواتین کو تحفظ دیے بغیر کوئی ملک آگے نہیں بڑھ سکتا۔اس موقع پر پارلیمنٹ کی بلڈنگ کو اورینج لائٹس سے روشن کیا گیا۔اس کے علاوہ ایوان صدر کی عمارت کو بھی اورنج لائٹس سے روشن کرکے خواتین پر تشدد کے خاتمے اور صنفی امتیازات کے خاتمے کے لئے اقدامات اٹھانے کے عزم کا اظہار کیا گیا ۔ خواتین ارکان پارلیمنٹ کے گروپ وومن کاکس کی صدرنشین منزہ حسن نے آئین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا آئین خواتین پر تشدد سمیت کسی بھی قسم کے صنفی امتیاز کی اجازت نہیں دیتا ۔ خواتین کو بااختیار اور محفوظ بنائے بغیر کوئی بھی معاشرہ ترقی نہیں کر سکتا ۔ انہوں نے کہا کہ وومن کاکس اپنے قابل اعتماد شراکت داروں کے ساتھ مل کر ہر قسن کے صنفی تشدد کے خاتمے کے لئے اپنا بھر پور کردار ادا کرے گا ۔ اس موقع پر اقوام متحدہ کے پاکستان میں کنٹری ڈائریکٹر جولین ہارنیز نے صنفی تشدد اور امتیازات کے خاتمے کے لئے 16 روزہ پروگرام کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے پاکستان نے قانون سازی کے شعبہ میں خاصی پیش رفت کی ہے تاہم اور بھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا خواتین کے خقوق کے تحفظ اور صنفی امتیاز کے خاتمے کے لئے موجود قوانین پر عمل درآمد یقینی بنانے کی ضرورت ہے ۔ ورلڈ اکنامک فورم کی ریٹنگ کے مطابق پاکستان کا 153 ممالک میں سے151واں نمبر ہے تاہم اطمینان کی بات یہ ہے کہ 24 فیصد پارلیمینٹیرین خواتین ہیں اور 33 فیصد قانون سازی میں کردار خواتین ارکان پارلیمنٹ کا ہے ۔ اس موقع پر ارکان پالیمنٹ، سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات سمیت سفارت کاروں نے بھی بڑی تعداد میں پروگرام میں شرکت کی ۔








