سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی زیر صدارت پارلیمنٹ کی خصوصی کمیٹی برائے زرعی مصنوعات کا اجلاس

اسلام آباد ۔ 25 اگست (اے پی پی) پارلیمنٹ کی خصوصی کمیٹی برائے زرعی مصنوعات کا اجلاس منگل کو سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی زیر صدارت ہوا جس میںوفاقی وزیر برائے فوڈ سیکورٹی سیّد فخر امام سمیت ارکان قومی اسمبلی اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ گورنر سٹیٹ بنک رضا باقرنے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔ اس موقع پر سپیکر نے کہا کہ زرعی قرضوں کا …

اسلام آباد ۔ 25 اگست (اے پی پی) پارلیمنٹ کی خصوصی کمیٹی برائے زرعی مصنوعات کا اجلاس منگل کو سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی زیر صدارت ہوا جس میںوفاقی وزیر برائے فوڈ سیکورٹی سیّد فخر امام سمیت ارکان قومی اسمبلی اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ گورنر سٹیٹ بنک رضا باقرنے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔ اس موقع پر سپیکر نے کہا کہ زرعی قرضوں کا حجم بڑھے گا تو زرعی شرح نمو بڑھے گی، ہم ذراعت میں اصلاحات لا کر معاشی انقلاب لا سکتے ہیں۔ کسان کو پاو¿ں پر کھڑا کرنے کے لئے اقدمات اٹھائے جا رہے ہیں۔ کسان کی خوشحالی پاکستان کی خوشحالی ہے۔ پارلیمنٹ کی خصوصی کمیٹی کا مقصد زراعت کو ترقی دینا ہے۔ سپیکر نے کہا کہ کم وقت میں زیادہ ترقی کے لیے زرعی شعبہ پر توجہ اہمیت کی حامل ہے۔ گورنر اسٹیٹ بنک نے کمیٹی کو یقین دلایا کہ زرعی قرضوں کا حصول آسان بنائیں گے۔زرعی شعبے کے قرضوں پر بینکوں کو مانیٹر کر رہے ہیں۔سال 2005 میں زرعی قرضوں کا حجم 109 ارب روپے تھا۔گزشتہ مالی سال زرعی قرضوں کا حجم 1225 ارب روپے ہے۔ گزشتہ مالی سال 28 لاکھ چھوٹے کاشت کاروں کو زرعی قرض دیا گیا۔ 2004-05ءمیں زراعت کیلئے 109 ارب روپے کے قرضے دیئے گئے۔2019-20ءمیں 1.3 کھرب کے قرضے دیئے گئے۔37 لاکھ چھوٹے کسانوں کو قرضے دیئے گئے۔کسانوں کے 56 ارب کے قرضے ری شیڈول کئے گئے۔ زمین کا کمپیوٹرائز ریکارڈ ضروری ہے، رضا باقر نے کہا کہ زمینوں کا ریکارڈ بہتر ہوگیا تو زرعی قرض دینا آسان ہوجائے گا۔ 2019-20ءمیں 1.2 ٹریلین روپے کا زرعی قرضہ دیا گیاہے۔91 فیصد چھوٹے کاشتکاروں کو زرعی قرضے دیئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ25 فیصد زرعی قرضہ چھوٹے کاشتکاروں کو دیا گیا۔