لاہور۔3اپریل (اے پی پی):صوبائی وزیر صنعت و تجارت چوہدری شافع حسین نے کہا ہے کہ سگیاں انڈسٹریل ایریا میں قائم صنعتوں کو درپیش مسائل کا فوری اور مستقل حل نکالا جائے گا ، حکومت کسی صورت ایسی پالیسی کی اجازت نہیں دے گی جس سے صنعتی سرگرمیاں متاثر یا بڑے پیمانے پر روزگار کو خطرہ لاحق ہوں۔انہوں نے کہا کہ حکومت پنجاب صنعتی ترقی، سرمایہ کاری کے تحفظ اور روزگار …
سگیاں انڈسٹریل ایریا میں قائم صنعتوں کے مسائل کا مستقل حل نکالا جائے گا، چوہدری شافع حسین
لاہور۔3اپریل (اے پی پی):صوبائی وزیر صنعت و تجارت چوہدری شافع حسین نے کہا ہے کہ سگیاں انڈسٹریل ایریا میں قائم صنعتوں کو درپیش مسائل کا فوری اور مستقل حل نکالا جائے گا ، حکومت کسی صورت ایسی پالیسی کی اجازت نہیں دے گی جس سے صنعتی سرگرمیاں متاثر یا بڑے پیمانے پر روزگار کو خطرہ لاحق ہوں۔انہوں نے کہا کہ حکومت پنجاب صنعتی ترقی، سرمایہ کاری کے تحفظ اور روزگار کے تسلسل کو بنیادی ترجیح سمجھتی ہے، اس لیے RUDA اور صنعتکاروں کے درمیان پیدا ہونے والے تنازعات کو مشاورت کے ذریعے حل کیا جائے گا۔ صوبائی وزیر نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے ساتھ مل کر قابلِ عمل حل تیار کیا جائے تاکہ صنعتی یونٹس بلا رکاوٹ کام جاری رکھ سکیں۔وہ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے ایک اعلی ٰسطحی وفد سے ملاقات کے دوران گفتگو کر رہے تھے جس میں، لاہور چیمبر کے سینئر نائب صدر تنویر احمد شیخ، سارک چیمبر کے نائب صدر میاں انجم نثار، سابق صدر لاہور چیمبر محمد علی میاں، ایگزیکٹو کمیٹی ممبران عمر سرفراز اور شعبان اختر،سگیاں ویلفیئر ایسوسی ایشن کے نمائندگان حافظ تنویر احمد، شفیق الزماں، ملک امین، محمد کامران اور دیگر صنعتکار شریک تھے۔سیکرٹری انڈسٹریز عمر مسعود بھی اس موقع پر موجود تھے۔صوبائی وزیر نے کہا کہ انہیں جیسے ہی اس مسئلے کی سنگینی کا علم ہوا تو انہوں نے فوری طور پر متعلقہ اداروں سے مشاورت شروع کی کیونکہ سگیاں کے صنعتی یونٹس نہ صرف معیشت میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں بلکہ ہزاروں خاندانوں کا روزگار بھی ان سے وابستہ ہے۔
لاہور چیمبر کے سینئر نائب صدر تنویر احمد شیخ نے وفد کی قیادت کرتے ہوئے بتایا کہ سگیاں کے علاقے میں تقریبا 1400 سے 1500 صنعتی یونٹس گزشتہ کئی دہائیوں سے کام کر رہے ہیں، جن میں سے بیشتر RUDA کے قیام سے بہت پہلے قائم ہو چکے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ان صنعتوں نے اپنی مدد آپ کے تحت انفراسٹرکچر تیار کیا مگر اب ان پر بھاری کنورڑن چارجز اور کمرشلائزیشن فیس عائد کی جا رہی ہے جو صنعتکاروں کے لیے ناقابلِ برداشت ہے۔انہوں نے کہا کہ کئی صنعتوں کو سیل کرنے اور ایف آئی آرز درج کرنے جیسے اقدامات سے کاروباری ماحول متاثر جبکہ صنعتکار شدید غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ سگیاں ایریا کو باضابطہ صنعتی درجہ دیا جائے اور کنورڑن چارجز فوری طور پر معطل کیے جائیں۔سارک چیمبر کے نائب صدر میاں انجم نثار نے اس معاملے کو صنعتی پالیسی کے تسلسل کا مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں حکومتوں نے خود صنعتکاروں کو شہری حدود سے باہر صنعتیں لگانے کی ترغیب دی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کی پالیسیوں پر عمل کرتے ہوئے صنعتیں قائم کی گئیں تو بعد میں نئی اتھارٹیز کے ذریعے ان پر اضافی مالی بوجھ ڈالنا انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہے۔سابق صدر لاہور چیمبر محمد علی میاں نے تجویز پیش کی کہ اگر حکومت پنجاب سگیاں کے علاقے کو باقاعدہ صنعتی ایریا ڈکلیئر کر دے تو کمرشلائزیشن اور کنورڑن فیس سے متعلق تنازعات بڑی حد تک ختم ہو سکتے ہیں ۔
سیکرٹری انڈسٹریز عمر مسعود نے کہا کہ اگر صنعتیں RUDA کے قیام سے قبل قانونی طور پر قائم تھیں تو ان پر بعد ازاں کنورڑن چارجز کے اطلاق کا معاملہ قانونی پہلوئو ں سے دوبارہ جانچنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ محکمہ صنعت اس معاملے کا مکمل جائزہ لے گا تاکہ صنعتی ترقی اور ریگولیٹری تقاضوں کے درمیان متوازن حل نکالا جا سکے۔اجلاس میں بتایا گیا کہ سگیاں انڈسٹریل ایریا میں قائم صنعتوں سے تقریبا ڈیڑھ لاکھ افراد کا روزگار وابستہ اور کسی بھی غیر یقینی صورتحال سے نہ صرف صنعتی پیداوار بلکہ مقامی معیشت بھی متاثر ہو سکتی ہے۔اجلاس کے اختتام پر اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ لاہور چیمبر، محکمہ صنعت اور متعلقہ اداروں کے درمیان مسلسل مشاورت جاری رکھی جائے گی اور RUDA و صنعتکاروں کے درمیان قابلِ قبول، قانونی اور صنعت دوست حل جلد سامنے لایا جائے گا تاکہ صنعتی سرگرمیوں کا تسلسل برقرار رہے اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو۔









