سیاسی وفاداریوں پر قومی خزانے سے دولت نچھاور کرنا نواز شریف کی پرانی ریت ہے، علی زیدی

اسلام آباد۔7اکتوبر (اے پی پی): وفاقی وزیر بحری امور علی زیدی نے کہا ہے کہ سیاسی وفاداروں پر قومی خزانے سے دولت نچھاور کرنا نوازشریف کی پرانی ریت ہے۔بدھ کے روز علی زیدی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ نوازشریف نے ماضی میں احتساب کمیشن کے سابق سربراہ سیف الرحمن کی ریڈ کو کمپنی کو بی ایم ڈبلیو کی ایجنسی دلوائی پھر بطور وزیر اعلیٰ ،وزیر اعلیٰ ہائوس کے …

اسلام آباد۔7اکتوبر (اے پی پی): وفاقی وزیر بحری امور علی زیدی نے کہا ہے کہ سیاسی وفاداروں پر قومی خزانے سے دولت نچھاور کرنا نوازشریف کی پرانی ریت ہے۔بدھ کے روز علی زیدی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ نوازشریف نے ماضی میں احتساب کمیشن کے سابق سربراہ سیف الرحمن کی ریڈ کو کمپنی کو بی ایم ڈبلیو کی ایجنسی دلوائی پھر بطور وزیر اعلیٰ ،وزیر اعلیٰ ہائوس کے لیے بی ایم ڈبلیو گاڑیوں کی فراہمی کا آرڈر بھی اسی کمپنی کو دیا۔ایل ڈے اے میں ہوشربا گھپلے نوازشریف کی سیاہ کاریوں میں سرفہرست ہیں ، بطور وزیر اعلیٰ نوازشریف نے لاکھوں کی مالیت کے ہزاروں بیش قیمت پلاٹس اپنی صوابدید پر رکھے جنہیں یہ کوڑیوں کے مول اپنے درباریوں میں بانٹتے رہے ، ایل ڈی اے کی فائلیں آج بھی نوازشریف کی ان سیاہ کاریوں کی امین ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایل ڈی اے کے سابق ڈی جی میجر جنرل ایم ایچ انصاری طویل عرصے تک نوازشریف کی لوٹ مار پر آواز اٹھاتے رہے۔نوازشریف نے پلاٹوں کی اس تقسیم کو سول و عسکری نوکرشاہی اور سیاستدانوں کیساتھ تعلقات میں پختگی کے ذریعے کے طور پر استعمال کیا۔ اراکین پارلیمان میں نوکریوں کے کوٹے دینے جیسی رسم بھی نوازشریف ہی کی ایجاد ہے ،بطور وزیر اعلیٰ پنجاب قواعد میں نرمی کر کے نائب تحصیلدار اور اے ایس آئیز کی نوکریاں ایم این ایز اور ایم پی ایز میں بانٹی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ وفادار سیاسی نوکر پہلے ان دفتروں میں لگائے جاتے پھر انہیں ڈپٹی کمشنر ز، کمشنرز اور سیکرٹریز وغیرہ بنا دیا جاتا۔ سینئر عہدوں پر جونیئر افسر بٹھا نے جیسی نفرت انگیز روایت کے موجد بھی نوازشریف ہی ہیں۔ افسروں کوا?ئوٹ آف ٹرن ترقیوں اور مدتی ملازمتوں کی روایت بھی نوازشریف نے ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ نوازشریف سیاسی افسر شاہی کا گاڈ فادر ہے ، شریف خاندان نے اپنے وفادار سرکاری افسرشاہی کو ہمیشہ اعلیٰ عہدوں پر بٹھایا ،1988میں نوازشریف کی وزارت اعلیٰ کے دور میں 6سیکرٹریٹ پر مشتمل نیٹ ورک تیار کیا گیا جسے سیاسی مشین کے طور پر برتا گیا۔ انہوں نے کہا کہ نوازشریف نے کپاس کے پیداواری علاقے میں شوگر ملیں لگا کر کاٹن کی مجموعی پیداوار کو غیر معمولی نقصان پہنچایا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ شوگر ملوں کی بیشتر مشینری نوازشریف کی اتفاق انڈسٹری میں تیار کی گئی۔ ان شوگر ملز مالکان کو قرض دینے کیلئے نوازشریف نے بنکرز ایکویٹی لمیٹڈ کی سربراہی پر صادق سعید خان نامی ایک سیاسی شخص کو بٹھایا بعد میں اس شخص کو اسلام آباد میں ن لیگ کے سیاسی دفتر کا سربراہ بنایا گیا۔